المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
45. لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ سِيقَ مِنْ أَرْضِهِ وَسَمَائِهِ إِلَى تُرْبَتِهِ الَّتِي مِنْهَا خُلِقَ
لا إله إلا الله کو اس کی زمین اور آسمان سے اس کی اسی مٹی کی طرف لے جایا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا۔
حدیث نمبر: 1372
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه وأحمد بن محمد العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحَاظي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثني أُنَيس بن أبي يحيى مولى الأسْلَمَيِّين، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدريِّ قال: مَرَّ النبيُّ ﷺ بجنازةٍ عند قبرٍ فقال:"قبْرُ مَن هذا؟" فقالوا: فلانٌ الحَبَشِيُّ يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ:"لا إله إلّا الله، لا إله إلّا الله، سِيقَ من أرضِه وسمائِه إلى تُربتِه التي منها خُلِق" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأُنيس بن أبي يحيى الأَسلَمي هو عمُّ إبراهيم بن أبي يحيى، وأُنَيس ثقة معتمَد، ولهذا الحديث شواهدُ، وأكثرها صحيحة، فمنها:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأُنيس بن أبي يحيى الأَسلَمي هو عمُّ إبراهيم بن أبي يحيى، وأُنَيس ثقة معتمَد، ولهذا الحديث شواهدُ، وأكثرها صحيحة، فمنها:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے جہاں جنازہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کس کی قبر ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں حبشی کی قبر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»، اسے اس کی زمین اور آسمان سے کھینچ کر اس مٹی کی طرف لایا گیا ہے جس سے اسے پیدا کیا گیا تھا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ انیس بن ابی یحییٰ اسلمی، ابراہیم بن ابی یحییٰ کے چچا ہیں اور وہ ثقہ اور معتبر راوی ہیں، اس حدیث کے بہت سے شواہد موجود ہیں جن میں سے اکثر صحیح ہیں، انہی میں سے ایک یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1372]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ انیس بن ابی یحییٰ اسلمی، ابراہیم بن ابی یحییٰ کے چچا ہیں اور وہ ثقہ اور معتبر راوی ہیں، اس حدیث کے بہت سے شواہد موجود ہیں جن میں سے اکثر صحیح ہیں، انہی میں سے ایک یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1372]