المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. عَمَلُ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ فِي الْكِتَابَةِ عَلَى الْقُبُورِ
قبروں پر لکھنے کے بارے میں سلف اور خلف کا عمل۔
حدیث نمبر: 1386
حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن السَّامي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا أبو معاوية، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن جابرٍ قال: نهى رسول الله ﷺ عن تَجصِيص القبور، والكتابِ فيها، والبناءِ عليها، والجلوسِ عليها (1) . هذه الأسانيد صحيحةٌ وليس العملُ عليها، فإنَّ أئمّة المسلمين من الشرق إلى الغرب مكتوبٌ على قبورهم، وهو عملٌ أَخذ به الخَلَفُ عن السَّلف (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر چونا کرنے، لکھنے، اس پر عمارت بنانے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ ٭٭ یہ تمام اسانید صحیح ہیں، لیکن اس پر عمل نہیں ہے کیونکہ مشرق سے مغرب تک (ساری دنیا میں) أئمہ مسلمین کی قبروں پر لکھائی کی ہوئی ہے اور یہی وہ عمل ہے جس کو بعد میں آنے والوں نے اپنے سے پہلوں سے لیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1386]
حدیث نمبر: 1387
أخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا بن أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع، عن الصَّلْت بن بَهْرام، عن الحارث بن وَهْب، عن الصُّنَابحيِّ قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تزال أُمتي - أو هذه الأمة - في مُسْكةٍ من دِينِها ما لم يَكِلُوا الجنائزَ إلى أهلها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان الصُّنابِحي هذا عبدَ الله، فإن كان عبدَ الرحمن بن عُسَيلة الصُّنابِحي (3) فإنه يُختَلف في سماعه من النبيِّ ﷺ، ولم يُخرجاه (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان الصُّنابِحي هذا عبدَ الله، فإن كان عبدَ الرحمن بن عُسَيلة الصُّنابِحي (3) فإنه يُختَلف في سماعه من النبيِّ ﷺ، ولم يُخرجاه (4) .
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت یا (شاید یہ فرمایا) یہ امت اس وقت تک اپنے اصل دین پر قائم رہے گی جب تک یہ جنازہ ان کے گھر والوں کے آسرے پر نہیں چھوڑیں گے۔ ٭٭ اس روایت کی سند میں جو صنابحی نامی راوی ہیں، اگر یہی عبداللہ ہیں تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ اور اگر یہ عبدالرحمن بن عسیلہ صنابحی ہیں تو ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع میں اختلاف ہے۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس روایت کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1387]