المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
53. إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ
قبر آخرت کے مراحل میں پہلا مرحلہ ہے۔
حدیث نمبر: 1389
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف الصَّنعاني، حدثنا عبد الله بن بَحِير قال: سمعتُ هانئًا مولى عثمان بن عفان يقول: كان عثمان بن عفان إذا وَقَفَ على قبرٍ بَكَى حتى يَبُلَّ لحيتَه، فيقال له: قد تَذكُرُ الجنةَ والنارَ فلا تبكي، وتبكي من هذا؟ فيقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ القبرَ أولُ منازل الآخرة، فإن نَجَا منه فما بعدَه أيسَرُ منه، وإن لم يَنْجُ منه فما بعدَه أشدُّ منه"، وقال رسول الله ﷺ:"ما رأيتُ منظرًا إلّا والقبرُ أفظَعُ منه" (1) .
ہانی (غلامِ عثمان) بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ ان کی داڑھی مبارک (آنسوؤں سے) تر ہو جاتی، ان سے کہا جاتا کہ آپ جنت اور دوزخ کا تذکرہ کرتے ہیں تو اتنا نہیں روتے لیکن قبر کو دیکھ کر اتنا روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر انسان اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کے مراحل اس سے زیادہ آسان ہوں گے، اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو اس کے بعد کے مراحل اس سے زیادہ سخت ہوں گے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”میں نے کوئی بھی منظر نہیں دیکھا مگر قبر کا منظر اس سے زیادہ ہولناک پایا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1389]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كسابقه.» [ترقيم الرساله 1389] [ترقيم الشركة 1377]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1390
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا العباس بن الفَضْل الأسفاطي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أبي، حدثنا المفضَّل بن محمد الضَّبِّي، عن عمر بن يَعلَى بن مُرَّة، عن أبيه، قال: سافرتُ مع النبي ﷺ غيرَ مرَّةٍ، فما رأيتُه مَرَّ بجيفةِ إنسانٍ إِلَّا أَمَرَ بدَفنِه، لا يَسألُ أمسلمٌ هو أم كافرٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی انسان کی لاش کے پاس سے گزرتے تو اسے دفن کرنے کا حکم دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دریافت نہیں فرماتے تھے کہ یہ مسلمان ہے یا کافر۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1390]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1390]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمَرَّة، عمر بن يعلى بن مرة - وهو عمر بن عبد الله بن يعلى بن مرة - مجمع على ضعفه كما قال الذهبي في "التلخيص"، وكذلك أبوه ضعفه غير واحد كما في "ميزان الاعتدال"، وقال البخاري: فيه نظر، والمفضل بن محمد الضبي - وهو الكوفي، كما صرَّح به ...» [ترقيم الرساله 1390] [ترقيم الشركة 1378]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف