المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
54. مَثَلُ الْإِنْسَانِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ وَعَمَلِهِ
انسان، اس کے اہل، اس کے مال اور اس کے عمل کی مثال۔
حدیث نمبر: 1391
أخبرنا أبو أحمد حمزة بن العباس بن الفَضْل بن الحارث العَقَبي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو داود سليمان بن داود الطيالسي، حدثنا عمران بن داوَرَ (1) القَطَّان، عن قتادة، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"لكلِّ إنسانٍ ثلاثةُ أخِلّاء: أما خليلٌ فيقول: ما أنفقتَ فلَكَ، وما أمسكْتَ فليس لك، وذاك مالُه، وأما خليلٌ فيقول: أنا معكَ فإذا أتيتَ باب المَلِكِ تركتُكَ ورجعتُ، فذاك أهلُه وحَشَمُه، وأما خليلٌ فيقول: أنا معكَ حيثُ دخلتَ وحيث خرجتَ، فذاك عملُه، فيقول: إن كنتَ لَأَهونَ الثلاثةِ عليَّ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا بتمامه، لانحرافهما عن عمران القطان، وليس بالمجروح الذي يُترَك حديثُه، وقد اتفقا على حديث سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إذا ماتَ الميتُ تَبِعَه ثلاثة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا بتمامه، لانحرافهما عن عمران القطان، وليس بالمجروح الذي يُترَك حديثُه، وقد اتفقا على حديث سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إذا ماتَ الميتُ تَبِعَه ثلاثة" (3) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر انسان کے تین دوست ہوتے ہیں۔ ایک دوست ہوتا ہے جو کہتا ہے: جو تو نے خرچ کیا وہ تیرا ہے اور جو تو نے روک رکھا ہے وہ تیرا نہیں ہے یہ اس کا مال ہے اور ایک دوست وہ ہوتا ہے جو کہتا ہے: میں تیرے ساتھ ہوں لیکن جب تو ملک ے دروازے پر پہنچے گا (یعنی قبر میں جائے گا) تو میں لوٹ آؤں گا۔ یہ اس کے اہل و عیال اور دوست احباب ہیں۔ ایک دوست وہ ہوتا ہے جو کہتا ہے: تو جہا بھی رہے، میں تیرے ساتھ ہوں، یہ اس کا عمل ہے تو آدمی اس سے کہے گا: تو میرے لیے بہت آسان تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے یہ پوری حدیث نقل نہیں کی۔ کیونکہ یہ دونوں عمران قطان سے انحراف کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایسے مجروح نہیں ہیں کہ ان کی احادیث کو چھوڑا جائے۔ جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے سفیان کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی مر جاتا ہے تو تین چیزیں اس کے پیچھے رہ جاتی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1391]
حدیث نمبر: 1392
أخبرني أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو سَلَمة التَّبوذَكي موسى بنُ إسماعيل، حدثنا حمّاد ابن سَلَمة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن النُّعمان بن بَشِير قال: قال رسول الله ﷺ:"مَثَلُ الرَّجُل ومَثَلُ الموت كمَثَل رجلٍ له ثلاثةُ خِلّان، فقال أحدُهم: هذا مالي فخُذْ منه ما شئتَ، وقال الآخر: أنا معَكَ حياتَك فإذا مِتَّ تركتُكَ، وقال الآخر: أنا معَكَ أدخُلُ وأخرُجُ معك إن مِتَّ وإن حَيِيتَ، فأما الذي قال: خُذْ منه ما شئتَ ودَعْ ما شئتَ، فإنه مالُه، وأما الآخَر عَشِيرتُه، وأما الآخَر فهو عملُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی اور موت کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص کے تین دوست ہوں، ان میں سے ایک کہے: یہ میرا مال ہے، اس میں سے تو جتنا چاہے لے لے، دوسرا کہے: میں ساری زندگی تیرے ساتھ رہوں گا لیکن جب تو مر جائے تو میں تجھے چھوڑ دوں گا اور تیسرا کہے: تو چاہے زندہ رہے یا مر جائے، میں ہر مقام پر ہمیشہ تیرے ساتھ رہوں گا۔ تو ان میں سے جس نے یہ کہا کہ اس میں سے جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے یہ اس کا مال ہے اور دوسرا اس کا خاندان ہے اور تیسرا اس کا عمل۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1392]