المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
71. مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ
جو شخص میت کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے۔
حدیث نمبر: 1442
حدثنا أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، حدثنا أبو العباس أحمد بن محمد الهَمْداني، حدثنا أبو شَيْبة إبراهيم بن عبد الله، حدثنا خالد بن مَخلَد، حدثنا سليمان بن بلال، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ليس عليكم في غَسْلِ ميِّتِكم غُسْلٌ إذا غَسَّلتُموه، فإنَّ ميِّتَكم ليس بنَجِسٍ، فَحَسْبُكم أن تَغْسِلوا أيديَكم" (1) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وفيه رَفْضٌ لحديثٍ مختلَفٍ فيه على محمد بن عمرٍو بأسانيد:"مَن غسَّلَ ميتًا فليغتسل" (1) . [أول كتاب الزكاة]
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وفيه رَفْضٌ لحديثٍ مختلَفٍ فيه على محمد بن عمرٍو بأسانيد:"مَن غسَّلَ ميتًا فليغتسل" (1) . [أول كتاب الزكاة]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے کسی میت کو غسل دے دو تو تم پر غسل کرنا لازم نہیں ہے، کیونکہ تمہارا میت ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ تم اپنے ہاتھ دھو لو۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس میں محمد بن عمرو سے مروی اس اختلافی حدیث کی تردید ہے جس کے مختلف طرق میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ”جس نے میت کو غسل دیا وہ خود بھی غسل کرے۔“ [اول کتاب الزکاۃ] [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1442]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس میں محمد بن عمرو سے مروی اس اختلافی حدیث کی تردید ہے جس کے مختلف طرق میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ”جس نے میت کو غسل دیا وہ خود بھی غسل کرے۔“ [اول کتاب الزکاۃ] [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1442]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا، وخالد بن مخلد» [ترقيم الرساله 1442] [ترقيم الشركة 1430]
الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا