المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ
ہر شخص قیامت کے دن اپنی صدقہ کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 1531
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، حدثنا حَرْمَلَة بن عمران، أنه سَمِع يزيد بن أبي حَبِيب يحدِّث، أنَّ أبا الخير حدَّثه، أنه سمع عقبةَ بن عامر يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"كلُّ امرئٍ في ظلِّ صدقته حتى يُفصَلَ بين الناس" أو قال:"حتى يُحكَمَ بين الناس". قال يزيد: وكان أبو الخير لا يُخطِئُه يومٌ لا يتصدقُ فيه بشيءٍ ولو كعكةً ولو بَصَلةً (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر شخص (قیامت کے دن) اپنے صدقے کے سائے تلے ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“، یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں کہ (اس حدیث کے راوی) ابوالخیر کا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں وہ کوئی چیز صدقہ نہ کرتے ہوں، خواہ وہ ایک کیک (روٹی کا ٹکڑا) ہو یا ایک پیاز ہی کیوں نہ ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1531]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1531]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، رجاله ثقات. الحسن بن حليم: هو الحسن بن محمد بن حليم الحليمي، نُسب إلى جده، وأبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: وهو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبدان لقبه، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأبو الخير: هو مرثد بن عبد الله اليزني.» [ترقيم الرساله 1531] [ترقيم الشركة 1522]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1532
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، عن [أبي] (2) قُرَّة قال: سمعتُ سعيد بن المسيّب يحدِّث عن عمر بن الخطّاب قال: ذُكِر لي أنَّ الأعمال تَباهَى، فتقول الصَّدقةُ: أنا أفضَلُكم (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ (قیامت کے دن) اعمال ایک دوسرے پر فخر کریں گے، تو صدقہ کہے گا: میں تم سب میں افضل ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1532]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1532]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة أبي قرة الأسدي الصيداوي، فقد تفرَّد بالرواية عنه النضر بن شميل، وقال ابن خزيمة: فإني لا أعرف أبا قرة بعدالة ولا جرح.» [ترقيم الرساله 1532] [ترقيم الشركة 1523]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة أبي قرة الأسدي الصيداوي