المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ
جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1546
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو بكر بن عيّاش. وحدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدةَ، حدثنا سعيد بن منصور وأبو كُرَيب، قالا: حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا كان أولُ ليلةٍ من رمضانَ صُفِّدت الشياطينُ ومَرَدةُ الجن، وغُلِّقت أبوابُ النار، فلم يُفتَحْ منها باب، وفُتِّحتْ أبوابُ الجِنان فلم يُغلَقْ منها باب، ونادى منادٍ: يا باغيَ الخيرِ أقبِلْ، ويا باغيَ الشَّرِّ أقصِرْ، وللهِ عُتقاءُ من النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش شیاطین اور جنات کو باندھ دیا جاتا ہے۔ دوزخ کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے پھر ان میں سے کوئی کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور ان میں سے کسی کو بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایک نداء دینے والا یوں نداء دیتا ہے ” اے بھلائی سے بھاگنے والے! متوجہ ہو اور اے برائی سے بھاگنے والے! تو رُکا رہ، اور اللہ کے لیے ان کو جہنم سے رہا کر دیا جاتا ہے۔ “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1546]
حدیث نمبر: 1547
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، قال: قُرِئ على عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وأنا أسمع، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا شعبة، عن محمد بن أبي يعقوب، قال: سمعتُ أبا نصرٍ الهِلاليَّ يحدِّث عن رجاء بن حَيْوة، عن أبي أمامةَ، قال: قلت: يا رسول الله، دُلَّني على عمل؟ قال:"عليك بالصَّوم، فإنه لا عِدْلَ له" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومحمد بن أبي يعقوب هذا الذي كان شعبةُ إذا حدَّث عنه يقول: حدثني سيدُ بني تميم، وأبو نصر الهلالي: هو حُميد بن هلال العَدَوي، ولا أعلمُ له راويًا عن شعبة غيرَ عبد الصمد، وهو ثقة مأمون.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومحمد بن أبي يعقوب هذا الذي كان شعبةُ إذا حدَّث عنه يقول: حدثني سيدُ بني تميم، وأبو نصر الهلالي: هو حُميد بن هلال العَدَوي، ولا أعلمُ له راويًا عن شعبة غيرَ عبد الصمد، وهو ثقة مأمون.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کسی عمل کی رہنمائی کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے رکھا کرو کیونکہ (اور کوئی عبادت اس کے) برابر نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور محمد بن ابویعقوب وہ راوی ہیں کہ سیدنا شعبہ رضی اللہ عنہ جب ان سے حدیث بیان کرتے ہیں: تو یوں کہتے ہیں:” مجھے یہ حدیث نبی تیمیم کے سردار نے بیان کی ہے “۔ اور ابونصر ہلالی جو ہیں یہ حمید بن ہلال عدوی ہیں۔ اور یہ حدیث شعبہ سے روایت کرنے والا عبدالصمد کے علاوہ اور کوئی راوی مجھے معلوم نہیں اور وہ ثقہ ہیں، مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1547]