المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلَا كَفَّارَةَ
جس نے رمضان میں بھول کر روزہ توڑ دیا اس پر نہ قضا ہے اور نہ کفارہ۔
حدیث نمبر: 1585
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن أفطَرَ في رمضانَ ناسيًا، فلا قَضاءَ عليه ولا كفَّارةَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں بھول کر کچھ کھا پی لیا اور روزہ توڑ دیا، تو اس پر نہ اس کی قضا ہے اور نہ ہی کوئی کفارہ۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس مخصوص سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1585]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس مخصوص سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1585]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي. أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن بن عوف.» [ترقيم الرساله 1585] [ترقيم الشركة 1574]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1586
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق بن موسى الخَطْمي (1) ، حدثنا أبي، حدثنا أنس بن عِيَاض عن الحارث بن عبد الرحمن، عن عمِّه، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ليسَ الصِّيامُ من الأكل والشرب، إنما الصيامُ من اللَّغْو والرَّفَث، فإن سابَّكَ أحدٌ أو جَهِلَ عليك فقل: إنِّي صائم، إنِّي صائم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ محض کھانے اور پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ حقیقی روزہ تو لغویات اور بیہودہ باتوں سے بچنے کا نام ہے، پس اگر تمہیں کوئی گالی دے یا تمہارے ساتھ جہالت و نادانی سے پیش آئے تو تم (اس کے جواب میں) کہہ دو: میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1586]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1586]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: "ليس الصيام من الأكل والشرب"، فقد تفرد به الحارث بن عبد الرحمن - وهو ابن أبي ذباب - عن عمه، وهذا الأخير قد سماه ابن حبان: عبد الله بن المغيرة بن أبي ذباب، وذكره في "الثقات"، ولا يعرف حاله.» [ترقيم الرساله 1586] [ترقيم الشركة 1575]
الحكم على الحديث: صحيح دون قوله: "ليس الصيام من الأكل والشرب"
حدیث نمبر: 1587
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا قُتيبة بن سعيد البَلْخي، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا عمرو بن أبي عمرو، عن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"رُبَّ صائمٍ حَظُّه من صيامِه الجُوعُ، ورُبَّ قائمٍ حَظُّه من قيامِه السَّهَر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے راتوں کو عبادت کے لیے کھڑے ہونے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے قیام سے سوائے جاگنے (کی تھکن) کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1587]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1587]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، عمرو بن أبي عمرو» [ترقيم الرساله 1587] [ترقيم الشركة 1576]
الحكم على الحديث: إسناده جيد