المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. جَوَازُ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
روزہ دار کے لیے بوسہ لینے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1588
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم وإبراهيم بن نصر الرّازيّان، قالا: حدثنا أبو الوليد الطيالسي، حدثنا الليث بن سعد، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن عبد الملك بن سعيد بن سُوَيد الأنصاري، عن جابر بن عبد الله، عن عمر بن الخطاب أنه قال: هَشِشْتُ يومًا فقبَّلتُ وأنا صائم، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: صَنعتُ اليوم أمرًا عظيمًا فقبلتُ وأنا صائم، فقال رسول الله ﷺ:"أرأيتَ لو تَمَضْمَضْتَ ماءً وأنت صائمٌ؟" قال: فقلت: لا بأسَ بذلك، فقال رسول الله ﷺ:"ففيمَ؟" (1) . حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن مجھے خواہش ہوئی اور میں نے (اپنی بیوی کا) بوسہ لے لیا، حالانکہ میں اس وقت روزے سے تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں آج بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہو گیا ہوں، میں نے روزہ کی حالت میں بوسہ لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، روزہ کی حالت میں کلی کرنا کیسا ہے؟ میں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (بوسہ لینے) میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1588]