🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. التَّوْدِيعُ عِنْدَ السَّفَرِ
سفر کے وقت رخصت کرنے کا طریقہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1634
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد الخَرّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان، حدثنا حنظلة بن أبي سفيان، أنه سمع القاسم بن محمد يقول: كنتُ عند ابن عمر، فجاءه رجلٌ، فقال: أردتُ سَفَرًا، فقال عبد الله: انتظرْ حتى أُودِّعَك كما كان رسولَ الله ﷺ يُودِّعُنا:"أَستَودِعُ الله دِينَكَ وأمانتَكَ وخواتيمَ عَملِكَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے سفر کا ارادہ کیا ہے، تو عبداللہ بن عمر نے فرمایا: ذرا ٹھہرو تاکہ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رخصت کرتے وقت (یہ دعا فرما کر الوداع) کیا کرتے تھے: «أَستَودِعُ الله دِينَكَ وأمانتَكَ وخواتيمَ عَملِكَ» میں تمہارے دین، تمہاری امانت داری اور تمہارے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، رجاله ثقات، إسحاق بن سليمان - وهو الرازي - ثقة من رجال الشيخين، وقد تابع الوليدَ بنَ مسلم في رواية هذا الحديث عن حنظلة عن القاسم عن ابن عمر فيما سيأتي برقم (2506)، وفي ذلك تزول شبهة الوهم التي نسبها أبو زرعة وأبو حاتم للوليد بن مسلم كما ...» [ترقيم الرساله 1634] [ترقيم الشركة 1623]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1635
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا إسماعيل بن حفص بن عُمر (1) بن ميمون، حدثنا يحيى بن اليَمان، عن حمزة الزَّيّات، عن حُمْران بن أعْيَن، عن أبي الطُّفيل، عن أبي سعيد الخُدري قال: حَجَّ النبيُّ ﷺ وأصحابه مُشاةً من المدينة إلى مكة، قال:"اربِطُوا على أوساطِكُم بأُزُرِكم"، ومشى خِلْطَ الهَرْولةِ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ سے مکہ تک پیدل چل کر حج ادا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا: تم اپنی چادروں کو اپنے پیٹ کے درمیان (کمروں پر) مضبوطی سے باندھ لو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی چال چلے جو تیز رفتاری اور دوڑنے کے قریب (نسلان) تھی۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف حمران بن أعين، ويحيى بن اليمان وهو وإن كان حسن الحديث في الجملة إلا أن في حفظه لِينًا. حمزة الزيات: هو ابن حبيب، وأبو الطفيل: هو عامر بن واثلة.» [ترقيم الرساله 1635] [ترقيم الشركة 1624]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف حمران بن أعين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1636
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عبادة، حدثنا ابن جُرَيج، أخبرني جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر قال: شَكَا ناسٌ إلى النبيِّ ﷺ المشيَ، فدعا بهم، فقال:"عليكم بالنَّسَلان"، فنَسَلْنا، فوجدناه أخفَّ علينا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدل چلنے (کی مشقت) کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا: تم «نسلان» (تیز قدمی اور ہلکے جھٹکوں کے ساتھ چلنے) کو لازم پکڑو، چنانچہ ہم نے اسی طرح چلنا شروع کیا تو اسے اپنے لیے (پیدل چلنے کے مقابلے میں) زیادہ ہلکا اور آسان پایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وجعفر بن محمد: هو ابن علي الصادق.» [ترقيم الرساله 1636] [ترقيم الشركة 1625]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں