المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. السَّبِيلُ: الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ
راہِ حج کی استطاعت زادِ راہ اور سواری ہے۔
حدیث نمبر: 1630
حدثنا أبو بكر [بن] محمد بن أبي دارِم (1) الحافظ بالكوفة وأبو سعيد إسماعيل بن أحمد التاجر، قالا: حدثنا علي بن العباس بن الوليد البَجَليّ، حدثنا علي بن سعيد بن مسروق الكِنْديّ، حدثنا ابن أبي زائدة، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتادة، عن أنس، عن النبي ﷺ في قوله ﵎: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97] ، قال: قيل: يا رسولَ الله، ما السَّبيل؟ قال: الزَّادُ والرَّاحلةُ" (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابع حمادُ بن سلمة سعيدًا على روايته عن قتادة:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابع حمادُ بن سلمة سعيدًا على روايته عن قتادة:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے اس ارشاد: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ ”اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ بیت اللہ کا حج کریں جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو“ [سورة آل عمران: 97] کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! استطاعت (سبیل) سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زادِ راہ (سفر کا خرچہ) اور سواری۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور حماد بن سلمہ نے بھی قتادہ سے روایت کرنے میں سعید بن ابی عروبہ کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1630]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور حماد بن سلمہ نے بھی قتادہ سے روایت کرنے میں سعید بن ابی عروبہ کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير ابن أبي دارم ففيه كلام كما سبق، ولكنه متابع، إلا أنَّ علة هذا الحديث في وصله من حديث أنس، فذكر أنس في الحديث وهمٌ، والصحيح رواية قتادة عن الحسن البصري عن النبي ﷺ مرسلًا، ذكر ذلك غير واحد من أهل العلم، منهم البيهقي 4/ 330، وابن عبد ...» [ترقيم الرساله 1630] [ترقيم الشركة 1619]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير ابن أبي دارم ففيه كلام كما سبق
حدیث نمبر: 1631
حدَّثَناه أبو نَصْر أحمد بن سَهْل بن حَمْدَويهِ الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبِيب الحافظ، حدثنا أبو أُميّة عمرو بن هشام الحَرَّاني، حدثنا أبو قَتادة، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن قَتادة عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ سُئِل عن قول الله: ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾، فقيل: ما السَّبيل؟ قال:"الزَّادُ والرَّاحلةُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 97] کے متعلق سوال کیا گیا کہ «سبيل» (یعنی حج کی استطاعت کے راستے) سے کیا مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد زادِ راہ (سفر کا خرچہ) اور سواری ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1631]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، أبو قتادة - وهو عبد الله بن واقد الحراني - ضعفه أبو زرعة والدارقطن، وقال أحمد ويحيى: ليس بشيء، وقال يحيى مرة: ثقة ولكن كان كثير الغلط، وقال النسائي: متروك الحديث، وقال البخاري: تركوه، وقال أبو حاتم: ذهب حديثه، ولخص ذلك الحافظ ابن حجر في "التقريب" فقال: ...» [ترقيم الرساله 1631] [ترقيم الشركة 1620]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 1632
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبل، حدثني أبي، حدثنا أبو هشام المخزوميّ، حدثنا وُهَيب، عن محمد بن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تُسافرِ امرأةٌ مَسيرةَ ليلةٍ إلَّا مع ذي مَحْرَم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت ایک رات کی مسافت کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان مخصوص الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1632]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان مخصوص الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محمد بن عجلان، وقد توبع. أبو هشام المخزومي: هو المغيرة بن سلمة القرشي، ووهيب: هو ابن خالد، وأبو سعيد: هو كيسان المقبري.» [ترقيم الرساله 1632] [ترقيم الشركة 1621]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1633
حدثنا عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة، حدثنا جَرِير، عن سُهَيل بن أبي صالح، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تسافرِ امرأةٌ بَريدًا إلَّا ومعها ذو مَحْرَم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت ایک برید (تقریباً بارہ میل یا اس سے زیادہ کی مخصوص مسافت) کا سفر نہ کرے الا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی ذی محرم ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1633]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، إلّا أنَّ لفظ "البريد" شاذٌ في هذه الرواية، منشؤه الاضطراب الحاصل في الإسناد والمتن، وقد بينا الخلاف في المتن في الرواية السابقة، فلم يذكر أحد لفظ "البريد"، وقد خالف جريرًا - وهو ابن عبد الحميد - بشرُ بنُ المفضل فرواه عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة، ولفظه: ...» [ترقيم الرساله 1633] [ترقيم الشركة 1622]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات