🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. الْمُحْرِمُ يُؤَدِّبُ غُلَامَهُ
احرام باندھے ہوئے شخص کا اپنے غلام کی تادیب کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1685
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا الحسن بن الرَّبيع، حدثنا عبد الله بن إدريس، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يحيى بن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن أسماء بنت أبي بكر الصديق قالت: خَرَجْنا مع رسول الله ﷺ حُجّاجًا، وإِنَّ زِمَالَةَ رسول الله ﷺ وزِمَالةَ أبي بكرٍ واحدةٌ، فنَزَلْنَا العَرْج، وكانت زِمَالتُنا مع غلامِ أبي بكر، قالت: فجلس رسولُ الله ﷺ، وجلست عائشةُ إلى جَنْبه، وجلس أبو بكر إلى جَنْب رسول الله ﷺ من الشِّقِّ الآخَر، وجلستُ إلى جَنْبِ أبي ننتظرُ غلامَه وزمالَتَه حتى يأتِيَنا، فاطَّلَع الغلامُ يمشي ما مَعَه بعيرُه، قال: فقال له أبو بكر: أين بعيرُك؟ قال: أَضلَّني الليلةَ، قالت: فقام أبو بكرٍ يَضربُه ويقول: بعيرٌ واحدٌ أضلَّك وأنت رجل؟! فما يزيدُ رسولُ الله ﷺ على أن يتبسَّمَ ويقول:"انظروا إلى هذا المُحرِم ما يَصنَعُ" (1) .
سیدہ اسماء بنتِ ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لیے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر کا مال بردار اونٹ ایک تھا، ہم مقام عرج پر ٹھہرے اور ہمارا مال بردار اونٹ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے ساتھ تھا، آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک جانب بیٹھ گئیں۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی دوسری جانب بیٹھ گئے اور میں اپنے والد کے پاس بیٹھ گئی، ہم لوگ ان کے غلام اور ان کے مال بردار اونٹ کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ کب ہم تک پہنچتے ہیں۔ تو وہ غلام پیدل چلتے ہوئے آیا، اس کے ہمراہ کوئی اونٹ وغیرہ نہیں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: رات کو وہ گم ہو گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اس کو مارنے لگ گئے اور کہنے لگے: ایک اونٹ تھا وہ بھی تم سے گم ہو گیا۔ تم کس کام کے مرد ہو۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوائے اس کے اور کچھ نہ کہا: اس محرم کو دیکھو کیا کر رہا ہے؟ ٭٭ یہ حدیث غریب ہے اور یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1685]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں