🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

84. تَحْرِيمُ قَطْعِ شَجَرَةِ الْمَدِينَةِ
مدینہ کے درخت کاٹنے کی حرمت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1809
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشْر بن المُفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن أبيه، عن عامر بن سعد بن أبي وقَّاص، عن أبيه سعدٍ: أنه كان يَخرُج من المدينة فيجدُ الحاطبَ من الحُطَّاب معه شجرٌ (1) رَطْبٌ قد عَضَدَه من بعض شَجَر المدينة، فيأخذُ سَلَبَه، فيكلِّمُه فيه - وقال بِشْر: فيُكلَّم فيه - فيقول: لا أدَعُ غَنيمةً غنَّمَنِيها رسولُ الله ﷺ وأنا من أكثر الناس مالًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مدینہ سے باہر نکل جایا کرتے تھے تو کسی لکڑھارے کو دیکھتے، جس کے پاس تروتازہ درخت ہوتا جو اس نے مدینہ کے درختوں سے کاٹا ہوتا۔ اگرچہ اس کو چھیل لیا ہوتا۔ اس سلسلے میں اگر وہ کوئی چون و چرا کرتا تو آپ فرماتے: میں ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی ہے حالانکہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1809]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1810
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن مرزوق أبو عوف البُزُوري، حدثنا خالد بن مَخْلَد القَطَواني، حدثنا عبد الله بن جعفر المَخْرَميّ، حدثنا إسماعيل بن محمد، عن عامر بن سعد: أنَّ سعدًا ركب إلى قصرِه بالعَقِيق فوجد عبدًا يقطع شجرًا فاستَلَبَه، فلما رَجَعَ جَاءَه أهلُ العبد يسألونه أن يَرُدَّ عليهم ما أَخذ من عبدهم، قال: مَعَاذَ اللهِ أَن أَرُدَّ شيئًا نَفَّلَنِيه رسولُ الله ﷺ، فلم يَرُدَّ إليهم شيئًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
سیدنا عامر بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ (مقامِ عقیق میں) اپنے محل کی طرف سفر میں تھے کہ راستے میں ایک غلام کو دیکھا جو (سرکاری) درخت کاٹ رہا تھا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ چھین لیے۔ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ لوٹ کر آئے تو اس کے گھر والے ان کے پاس گئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ ان کے غلام سے جو درخت چھینے گئے ہیں وہ واپس کیے جائیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی پناہ: ہم وہ چیز نہیں لوٹا سکتے جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کی ہے چنانچہ آپ نے ان کو کچھ بھی واپس نہیں دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1810]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں