المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ مَنْزِلَةُ اللَّهِ عِنْدَهُ
جو یہ جاننا چاہے کہ اللہ کے ہاں اس کا مرتبہ کیا ہے وہ دیکھے کہ اس کے دل میں اللہ کا کیا مقام ہے۔
حدیث نمبر: 1841
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بِشْر بن المُفضَّل، حدثنا عمر بن عبد الله مولى غُفْرة قال: سمعتُ أيوب بن خالد بن صفوان الأنصاريُّ يقول: قال جابر بن عبد الله: خَرَجَ علينا النبي ﷺ فقال:"يا أيها الناس، إنَّ لله سَرَايا من الملائكة تَحُلُّ وتقفُ على مجالس الذِّكر في الأرض، فارتَعُوا في رياض الجنة"، قالوا: وأين رياضُ الجنة يا رسول الله؟ قال:"مجالسُ الذِّكر، فاغْدُوا ورُوحُوا في ذكر الله، وذكِّروه أنفُسَكم، من كان يحبُّ أن يَعلَمَ منزلتَه عند الله، فلينظُر كيف منزلةُ الله عنده، فإنَّ الله يُنزِلُ العبدَ منه حيث أنزَلَه من نفسِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے کچھ دستے ایسے ہیں جو زمین میں ذکر کی مجلسوں پر اترتے اور وہاں قیام کرتے ہیں، لہٰذا تم جنت کے باغوں میں چر لیا کرو۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جنت کے باغ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر کی مجلسیں جنت کے باغ ہیں، پس تم اللہ کے ذکر میں صبح و شام مصروف رہا کرو اور اپنے نفسوں کو اس کی یاد دلایا کرو۔ جو شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا مقام ہے، تو وہ یہ دیکھ لے کہ اس کے اپنے دل میں اللہ کا کیا مقام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے ہاں وہی مقام عطا کرتا ہے جو بندہ اللہ کو اپنے نفس میں دیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1841]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1841]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عمر بن عبد الله مولى غُفْرة، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 1841] [ترقيم الشركة 1826]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عمر بن عبد الله مولى غُفْرة