🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. فَضِيلَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ
ذکر کی مجلسوں کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1842
أخبرني أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار (1) بمكة على الصَّفا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن مِنْهال. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا أبو عُمَر الضرير، قالا: حدثنا حمّاد بن سلمة، أنَّ سهيل بن أبي صالح أخبرهم، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ لله ملائكةً سَيّارةً وفُضُلًا يَلتَمِسون مجالسَ الذِّكر في الأرض، فإذا أَتَوا على مجلس ذِكْرٍ حَفَّ بعضُهم بعضًا بأجنحتهم إلى السماء، فيقول ﵎: من أين جئتُم؟ وهو أعلمُ، فيقولون: ربَّنا جئنا من عند عبادك يُسبِّحونك ويُكبِّرونك ويَحْمَدُونك ويُهلِّلونك، ويَسألونك ويَستَجيرونك، فيقول: ما يسألونني؟ وهو أعلمُ، فيقولون: ربَّنا يسألونك الجنة، فيقول: وهل رأَوها؟ فيقولون: لا يا رب، فيقول: فكيف لو رأَوها؟ فيقول: وممَّ يَستَجيرونني؟ وهو أعلمُ، فيقولون: من النار، فيقول: هل رأَوها؟ فيقولون: لا، فيقول: فكيف لو رأَوها؟ ثم يقول: اشهَدُوا أني قد غفرتُ لهم، وأعطيتُهم ما سألوني، وأَجَرْتُهم مما استجاروني، فيقولون: ربَّنا إِنَّ فيهم عبدًا خطّاءً جلس إليهم وليس منهم! فيقول: وهو أيضًا قد غفرتُ له، هم القومُ لا يَشقَى بهم جَليسُهم" (2) .
هذا حديث صحيح، تفرَّد بإخراجه مسلم بن الحجاج مختصرًا من حديث وهيب بن خالد عن سهيل (1) !
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ صاحب فضیلت چلنے پھرنے والے ملائکہ ہیں جو زمین میں ذکر کی محفلیں تلاش کرتے ہیں۔ اور جب وہ کسی ذکر کی محفل میں آتے ہیں تو ان کو اپنے پروں کے ساتھ آسمانوں تک ڈھانپ لیتے ہیں (جب وہ لوٹ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جاتے ہیں تو) اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے: تم کہاں سے آئے ہو؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جانتا ہے، وہ جواب دیتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل میں مصروف ہیں، جو تجھ سے مانگتے ہیں اور تیری ہی پناہ چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جانتا ہے، فرشتے جواب دیتے ہیں: اے ہمارے رب! وہ تجھ سے جنت مانگ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: نہیں اے ہمارے رب! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر انہوں نے اس کو دیکھ لیا ہوتا (تو ان کا شوق کیسا ہوتا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری کس چیز سے پناہ مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ یہ بھی بہتر جانتا ہے۔ وہ جواب دیتے ہیں: آگ سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اس کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر انہوں نے جہنم کو دیکھا ہوتا (تو ان کے ڈرنے کی کیفیت کیا ہوتی؟) پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے اور جو کچھ انہوں نے مجھ سے مانگا ہے، میں نے انہیں دے دیا ہے اور جس چیز سے انہوں نے میری پناہ مانگی ہے، میں نے ان کو پناہ دے دی ہے۔ فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ان کے اندر ایک گنہگار بندہ بھی ہے۔ جو ان میں (ایسے ہی) بیٹھا ہوا ہے حلقۂ ذکر والوں میں وہ شامل نہیں تھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اسے بھی بخش دیا ہے۔ کیونکہ ذکر کرنے والوں کی یہ شان ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں ہو سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ بن حجاج نے اس کو وہب بن خالد کے حوالے سے سہیل سے روایت کیا ہے۔ یہ روایت مختصر ہے اور اس میں امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ منفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1842]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں