المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. فَضِيلَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ
ذکر کی مجلسوں کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1842
أخبرني أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار (1) بمكة على الصَّفا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن مِنْهال. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا أبو عُمَر الضرير، قالا: حدثنا حمّاد بن سلمة، أنَّ سهيل بن أبي صالح أخبرهم، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ لله ملائكةً سَيّارةً وفُضُلًا يَلتَمِسون مجالسَ الذِّكر في الأرض، فإذا أَتَوا على مجلس ذِكْرٍ حَفَّ بعضُهم بعضًا بأجنحتهم إلى السماء، فيقول ﵎: من أين جئتُم؟ وهو أعلمُ، فيقولون: ربَّنا جئنا من عند عبادك يُسبِّحونك ويُكبِّرونك ويَحْمَدُونك ويُهلِّلونك، ويَسألونك ويَستَجيرونك، فيقول: ما يسألونني؟ وهو أعلمُ، فيقولون: ربَّنا يسألونك الجنة، فيقول: وهل رأَوها؟ فيقولون: لا يا رب، فيقول: فكيف لو رأَوها؟ فيقول: وممَّ يَستَجيرونني؟ وهو أعلمُ، فيقولون: من النار، فيقول: هل رأَوها؟ فيقولون: لا، فيقول: فكيف لو رأَوها؟ ثم يقول: اشهَدُوا أني قد غفرتُ لهم، وأعطيتُهم ما سألوني، وأَجَرْتُهم مما استجاروني، فيقولون: ربَّنا إِنَّ فيهم عبدًا خطّاءً جلس إليهم وليس منهم! فيقول: وهو أيضًا قد غفرتُ له، هم القومُ لا يَشقَى بهم جَليسُهم" (2) .
هذا حديث صحيح، تفرَّد بإخراجه مسلم بن الحجاج مختصرًا من حديث وهيب بن خالد عن سهيل (1) !
هذا حديث صحيح، تفرَّد بإخراجه مسلم بن الحجاج مختصرًا من حديث وهيب بن خالد عن سهيل (1) !
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں سیاحت کرنے والے اور (ذکر کی تلاش میں) زائد مقرر ہیں جو زمین میں ذکر کی مجلسوں کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ پس جب وہ ذکر کی کسی مجلس پر پہنچتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں یہاں تک کہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے جبکہ وہ ان کے حال سے سب سے زیادہ واقف ہے: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ بیان کر رہے تھے، تیری بڑائی «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ بیان کر رہے تھے، تیری حمد «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کر رہے تھے، تیری توحید «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا ذکر کر رہے تھے، تجھ سے سوال کر رہے تھے اور تیری پناہ طلب کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ جبکہ وہ خود سب سے زیادہ جاننے والا ہے، وہ عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں: نہیں اے رب! اللہ فرماتا ہے: تو اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ پھر اللہ فرماتا ہے: وہ کس چیز سے میری پناہ مانگتے ہیں؟ جبکہ وہ خود سب سے زیادہ جاننے والا ہے، وہ عرض کرتے ہیں: آگ (جہنم) سے، اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں: نہیں، اللہ فرماتا ہے: تو اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم گواہ رہو کہ میں نے ان سب کو معاف کر دیا، اور وہ جو کچھ مانگ رہے تھے میں نے انہیں عطا کر دیا، اور جس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے میں نے انہیں پناہ دے دی، تب فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ان میں ایک بہت گناہگار بندہ بھی تھا جو (کسی کام سے) ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا اور وہ ان (ذکر کرنے والوں) میں سے نہیں تھا! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اسے بھی معاف کر دیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کا ہم نشین (پاس بیٹھنے والا) بھی بدبخت و محروم نہیں رہتا۔“
یہ حدیث صحیح ہے، اور امام مسلم بن الحجاج نے اسے وہیب بن خالد کی سہیل سے روایت کے طور پر مختصراً روایت کرنے میں انفرادیت حاصل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1842]
یہ حدیث صحیح ہے، اور امام مسلم بن الحجاج نے اسے وہیب بن خالد کی سہیل سے روایت کے طور پر مختصراً روایت کرنے میں انفرادیت حاصل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وأبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكجّي.» [ترقيم الرساله 1842] [ترقيم الشركة 1827]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح