المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
54. مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى
صبح اور شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1913
أخبرنا أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشيم، أخبرنا يعلى بن عطاء، عن عمرو بن عاصم، عن أبي هريرة: أنَّ أبا بكر الصِّدّيق سأل النبيَّ ﷺ فقال: مُرْني بكلماتٍ أقولُهن إذا أصبحتُ وإذا أمسيتُ، فقال:"قل: اللهمَّ فاطرَ السماواتِ والأرضِ، عالمَ الغَيبِ والشهادةِ، ربَّ كلِّ شيءٍ ومَليكَه، أشهدُ أن لا إلهَ إلَّا أنتَ، أعوذُ بك من شرِّ نفْسي، ومن شَرِّ الشيطانِ وشِرْكِه"، فقال:"قُلْها إذا أصبحتَ وإذا أمسيتَ، وإذا أخذت مَضجَعكَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے ایسے کلمات کا حکم دیجیے جنہیں میں صبح اور شام کے وقت پڑھا کروں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور ظاہر کے جاننے والے، ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک (یا پھندے) سے تیری پناہ مانگتا ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں صبح کے وقت، شام کے وقت اور جب بستر پر سونے کے لیے جاؤ تب پڑھا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1913]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1913]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عمرو بن عاصم: هو ابن سفيان بن عبد الله الثقفي.» [ترقيم الرساله 1913] [ترقيم الشركة 1898]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1914
حدثنا إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا إبراهيم بن موسى الفَرّاء، حدثنا زكريا بن مَنظُور، حدثني محمد بن عُقبة، عن أم هانئ بنت أبي طالب، قالت: قلتُ: يا نبيَّ الله، إني امرأةٌ قد كَبِرتُ وضَعُفتُ، فدُلَّني على عملٍ، قال:"كَبِّري اللهَ مئةَ مرّة، واحمَدِي اللهَ مئةَ مرّة، وسبِّحي اللهَ مئةَ مرّة، فهو خيرٌ لك من مئة بَدَنةٍ مُتقبَّلَة، وخيرٌ من مئة فرَسٍ مُسرَجٍ مُلجَمٍ في سبيل الله، وخيرٌ من مئة رَقَبةٍ مُتقبَّلَة، وقولُ: لا إله إلَّا الله، لا يَتْرُك ذَنبًا، ولا يُشبِهُها عملٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وزكريا بن مَنظُور لم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، وزكريا بن مَنظُور لم يُخرجاه.
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں ایک ضعیف اور بوڑھی عورت ہو چکی ہوں، مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیں (جو میں آسانی سے کر سکوں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، سو مرتبہ الحمد للہ کہو اور سو مرتبہ سبحان اللہ کہو، یہ تمہارے لیے سو مقبول اونٹوں کی قربانی سے بہتر ہے، اور اللہ کی راہ میں سو زمین و لگام والے گھوڑوں پر مجاہدین کو سوار کر کے بھیجنے سے بہتر ہے، اور سو مقبول غلاموں کو آزاد کرنے سے بہتر ہے، اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہنا کسی گناہ کو باقی نہیں چھوڑتا اور اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن زکریا بن منظور کی روایت ہونے کی وجہ سے شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1914]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن زکریا بن منظور کی روایت ہونے کی وجہ سے شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1914]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف، لأنَّ زكريا بن منظور ضعَّفوه كما قال الذهبي في "تلخيصه"، لكن روي هذا الخبر من وجوه أخرى عن أم هانئ، إلا أنها لا تخلو من مقالٍ، لكنها باجتماعها مع شاهده من حديث أبي أمامة من وجهين عنه يتقوى الخبرُ إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 1914] [ترقيم الشركة 1899]
الحكم على الحديث: صحيح بطرقه وشاهده