المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
71. دُعَاءُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّذِي كَانَ يَدْعُو بِهِ فِي الصَّلَاةِ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی وہ دعا جو وہ نماز میں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1944
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهِلاليّ، حدثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدثنا حماد بن زيد، عن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عمار بن ياسر: أنه صلَّى بأصحابِه يومًا أوجَزَ فيها، فقيل له: يا أبا اليَقْظانِ خَفّفتَ! قال: ما علَيَّ في ذلك، لقد دعوتُ فيها بدعواتٍ سمِعتُهن من رسولِ الله ﷺ، قال: فقام رجلٌ فتبعَه - وهو أبو عطاءٍ - فسألَه عن الدعاءِ، فرجعَ فجاء فأخبرَ:"اللهمَّ بعِلمِك الغيبَ، وقُدرتِكَ على الخَلْقِ، أحيِني ما علِمتَ الحياةَ خيرًا لي، وتوفَّني إذا كانتِ الوفاةُ خيرًا لي، اللهم وأسألُك خَشْيَتك في الغيبِ والشهادةِ، وأسألُك كلمةَ الحُكم في الغَضَب والرِّضا، وأسألُك القصدَ في الغِنى والفقر، وأسألُك نعيمًا لا يَبِيد، وأسألك قُرّة عَينٍ لا تَنفَد ولا تَنقطِع، وأسألُك الرِّضا بعد القضاء، وأسألُك بَرْدَ العَيشِ بعد الموتِ، وأسألُك لَذَّةَ النظَرِ إلى وجهك، وأسألُك الشوقَ إلى لِقائِك في غير ضَرّاءَ مُضِرّة، ولا فتنةٍ مُضِلَّة، اللهم زيِّنّا بزينةِ الإيمان، واجعلْنا هُداةً مُهتَدين" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو انتہائی مختصر نماز پڑھائی، ان سے کہا گیا: اے ابویقظان! آج آپ نے بہت مختصر نماز پڑھائی ہے (اس کی وجہ کیا ہے) انہوں نے جواب دیا: مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے، میں نے اس میں وہ دعائیں مانگی ہیں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں۔ سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ابوعطاء نے ان سے اس دعا کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا (کہ وہ دعا یہ تھی) اے اللہ! تجھے تیرے علمِ غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کا واسطہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں میرے لیے زندگی بہتر ہے اور اس وقت مجھے موت دے دے، جب تیرے علم میں میرے لیے موت بہتر ہو۔ اور میں ہمیشہ حکمت کی بات بولوں۔ اور دولت مندی و فقر میں میانہ روی اختیار کروں اور میں تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ہلاک نہ ہوں اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہو اور میں تجھ سے فیصلے کے بعد رضا کا سوال کرتا ہوں اور مرنے کے بعد اچھی زندگی کا سوال کرتا ہوں اور تیری ذات کے دیدار کا سوال کرتا ہوں اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں (اور یہ سب کچھ) کسی نقصان اور آزمائش میں مبتلا ہوئے بغیر (ہو جائے) اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت کے ساتھ مزین فرما۔ اور ہدایت یافتہ راہنما بنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1944]