المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
94. الدُّعَاءُ الْجَامِعُ بِرِوَايَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق جامع دعا۔
حدیث نمبر: 1978
أخبرنا الحُسين بن الحَسن بن أيوب، حدثنا حاتم الرازي، حدثنا إبراهيم بن يوسف، حدثنا خَلَف بن خَليفة، عن حُميد الأعرج، عن عبد الله بن الحارث، عن عبد الله بن مسعود قال: كان من دُعاء رسولِ الله ﷺ:"اللهم إني أعوذُ بك من عِلمٍ لا يَنفعُ، وقلبٍ لا يَخشعُ، ودُعاءٍ لا يُسمعُ، ونَفْسٍ لا تَشبعُ، ومن الجُوع، فإنه بئس الضَّجيع، ومن الخِيانة فبئستِ البِطانةُ، ومن الكَسَل والبُخل والجُبْن، ومن الهَرَم، ومن أن أُردَّ إلى أَرْذَل العُمر، ومن فتنة الدَّجّال، وعذاب القبر، وفتنة المَحيا والمَمات، اللهمَّ إنا نسألُك قلوبًا أوّاهةً مُخبِتةً مُنِيبةً في سبيلِك، اللهمَّ إنا نسألُك عَزائمَ مَغفِرتِك، ومُنجِياتِ أمرِك، والسلامةَ من كل إثمٍ، والغَنيمةَ من كل بِرٍّ، والفوزَ بالجنة، والنَّجاةَ من النار". وكان إذا سَجَد قال:"اللهمَّ سَجَد لك سَوَادي وخَيَالي، وبك آمَنَ فُؤادي، أبُوء بنعمتِك عليَّ، وهذا ما جَنَيتُ على نفسي، يا عظيمُ، يا عظيمُ، اغفِرْ لي، فإنه لا يَغْفِر الذنوبَ العظيمةَ إلَّا الربُّ العظيمُ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، إلَّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن حُميد الأعرج الكوفي، إنما اتفقا على إخراج حديث حميد بن قيس الأعرج المكي. فأما أولُ الحديث في الاستعاذة من الأربع، فقد رُوي عن أبي هريرة وعبد الله بن عمرو. أما حديثُ أبي هريرة:
هذا حديث صحيح الإسناد، إلَّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن حُميد الأعرج الكوفي، إنما اتفقا على إخراج حديث حميد بن قيس الأعرج المكي. فأما أولُ الحديث في الاستعاذة من الأربع، فقد رُوي عن أبي هريرة وعبد الله بن عمرو. أما حديثُ أبي هريرة:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء میں یہ بھی تھا ” اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، اور ایسے دل سے جس میں تیرا خوف نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور بھوک سے، کیونکہ یہ برا ساتھی ہے، اور خیانت سے کیونکہ یہ بُرا رازدار ہے، اور کاہلی سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور شدید بڑھاپے سے، اور عذابِ قبر سے، اور زندگی و موت کے فتنہ سے، اے اللہ! ہمیں اپنی راہ میں آہ و زاری، عاجزی، اور رجوع کرنے والا دل عطا فرما، اے اللہ! ہم تیری مغفرت کے عزائم اور تیرے امر سے نجات دہندگی کا سوال کرتے ہیں۔ ہر گناہ سے سلامتی اور ہر نیکی سے کمائی اور جنت کی کامیابی اور دوزخ سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔ اور جب آپ سجدہ کرتے تو یہ دعا مانگا کرتے تھے: ” اے اللہ میرا دل اور خیال تجھے سجدہ کرتے ہیں اور تیرے ہی ذریعے میرے دل کو سکون ملے گا۔ میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور یہ جو میں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں۔ اے عظیم! اے عظیم! میری مغفرت فرما، کیونکہ گناہِ عظیم، ربِ عظیم کے سوا اور کوئی نہیں بخش سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حمیدالاعرج الکوفی سے یہ حدیث نقل نہیں کی ہے۔ جبکہ دونوں نے حمید بن قیس الاعرج المکی کی روایات نقل کی ہیں۔ چار چیزوں سے پناہ مانگنے کے متعلق حدیثوں میں سے پہلی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1978]