المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
109. مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ كَانَ دَوَاءً مِنْ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ دَاءً أَيْسَرُهَا الْهَمُّ
جس نے لا حول ولا قوة إلا بالله کہا وہ ننانوے بیماریوں کی دوا ہے جن میں سب سے ہلکی غم ہے۔
حدیث نمبر: 2013
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عمرو المُستَمْلي، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا بشر بن رافع، عن محمد بن عَجْلان، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ، قال:"مَن قال: لا حولَ ولا قوةَ إلَّا بالله، كان دواءً من تسعةٍ وتسعين داءً، أيسرُها الهَمُّ" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وبشر بن رافع الحارِثي ليس بالمتروك، وإن لم يُخرجاه. وكذلك هيثمٌ البَكّاء لم يُخرجاه، وله حديث يَنفردُ به، وهذا موضعُه، فإنه من عُبّاد المسلمين:
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وبشر بن رافع الحارِثي ليس بالمتروك، وإن لم يُخرجاه. وكذلك هيثمٌ البَكّاء لم يُخرجاه، وله حديث يَنفردُ به، وهذا موضعُه، فإنه من عُبّاد المسلمين:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ” لا حول ولا قوّۃ الا باللّٰہ “ پڑھے، یہ اس کے لیے 99 بیماریوں کی دوا ہے جن میں سے سب سے ہلکی بیماری ” ھم “ (غم) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا اور بشر بن رافع الحارثی متروک الحدیث نہیں ہیں۔ اور یونہی ” ھیثم البکاء “ کی روایات شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے نقل نہیں کیں اور ان کی ایک اور حدیث بھی ہے جس کی روایت میں یہ منفرد ہیں اور یہ اس کا مقام ہے کیونکہ وہ مسلمان بندوں میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2013]