المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. فَضِيلَةُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ
سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2075
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن عبد الله بن عيسى، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: بَيْنا جبريلُ ﵇ جالس عند رسول الله ﷺ إذ سمع نقيضًا من السماء، فرفع رأسه، ثم قال:"فُتحَ بابٌ من السماء لم يُفتَح قبلَه قطُّ، فإذا مَلَك يقول: أبشِرْ بِنُورَين أُوتِيتَهما لم يُؤتَهُما نبيٌّ قبلَك: فاتحةُ الكتاب، وخَواتيمُ سورة البقرة، لن تَقرأَ منهما (3) حرفًا إلَّا أُعطِيتَه" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما أخرج مسلم هذا الحديث عن أحمد بن جَوَّاس الحنفي، عن أبي الأحوص، عن عمار بن رُزَيق، مختصرًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما أخرج مسلم هذا الحديث عن أحمد بن جَوَّاس الحنفي، عن أبي الأحوص، عن عمار بن رُزَيق، مختصرًا (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اسی اثناء میں کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے آسمان سے ایک چرچراہٹ کی آواز سنی، انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”آسمان کا ایک ایسا دروازہ کھلا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا، پھر وہاں سے ایک فرشتہ اترا اور کہنے لگا: آپ کو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ کو دیے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: ایک فاتحہ الکتاب اور دوسرا سورہ بقرہ کی آخری آیات، آپ ان میں سے جو بھی حرف پڑھیں گے وہ (اس میں مانگی گئی دعا) آپ کو ضرور دی جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، امام مسلم نے اسے مختصراً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2075]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، امام مسلم نے اسے مختصراً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2075]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل معاوية بن هشام» [ترقيم الرساله 2075] [ترقيم الشركة 2059]
الحكم على الحديث: إسناده قوي