🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. قِرَاءَةُ " قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ
سورۂ کافرون کی قراءت شرک سے براءت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2102
أخبرنا علي بن عبد الرحمن السَّبيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزةَ، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق (1) ، عن فَرْوة بن نوفل الأشجعي، عن أبيه - وكان النبي ﷺ دَفَع إليه ابنةَ أمِّ سلمة، وقال:"إنما أنت ظِئْري" - قال: فقَدِمتُ عليه، فقال:"ما فعلتِ الجُوَيريَةُ - أو الجاريةُ؟ -" قلت: عند أمِّها، قال:"فمجيءٌ ما جئتَ؟" قال: جئتُ تُعلِّمُني شيئًا أقوله عند مَنامي، قال:"اقرأْ ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، فإنها بَراءةٌ من الشِّرك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے، سیدنا اُمِ سلمہ کی چھوٹی بیٹی، سیدنا نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ کے پاس پرورش کے لیے بھیج رکھی تھی (سیدنا نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: ایک دفعہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بچی کے متعلق پوچھا تو میں نے عرض کی: حضور! وہ اپنی ماں کے پاس ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم یہاں کیا کرنے آئے ہو، انہوں نے کہا: میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کوئی چیز سکھا دیں جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ الکافرون پڑھ لیا کرو کیونکہ اس میں شرک سے بیزاری (کا اعلان) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2102]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں