سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب فِي الصَّبِيِّ يَحُجُّ
باب: نابالغ بچوں کے حج کا بیان۔
حدیث نمبر: 1736
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، قَالَ:" مَنِ الْقَوْمُ؟" فَقَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، فَقَالُوا: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا:" رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام روحاء میں تھے کہ آپ کو کچھ سوار ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور پوچھا: ”کون لوگ ہو؟“، انہوں نے جواب دیا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہو؟ لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ایک عورت گھبرا گئی پھر اس نے اپنے بچے کا بازو پکڑا اور اسے اپنے محفے ۱؎ سے نکالا اور بولی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہو جائے گا ۲؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور اجر تمہارے لیے ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1736]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ روحاء پر تھے کہ آپ کو ایک قافلے والے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم مسلمان ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”آپ کون لوگ ہیں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”یہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ تو ایک عورت نے جلدی سے اپنے بچے کو بازو سے پکڑا اور اسے اپنے ہودج سے باہر نکالا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس کے لیے حج ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ» ”ہاں! اور تیرے لیے اجر ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 72 (1336)، سنن النسائی/المناسک 15 (2648)، (تحفة الأشراف: 6336)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 81 (244)، مسند احمد (1/244، 288، 343، 344) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہودج کی طرح عورتوں کی سواری پر ایک سیٹ ہوتی ہے جسے محفّہ کہتے ہیں۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ کا حج صحیح ہے چونکہ اس کا ولی اس کی جانب سے کم سنی کی وجہ سے اعمال حج ادا کرتا ہے، اس لئے وہ ثواب کا مستحق ہو گا، واضح رہے اس سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہو گی، بلکہ بلوغت کے بعد استطاعت کی صورت میں اس پر حج فرض ہے، اور بچپن کا حج اس کے لئے نفل ہو گا۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ کا حج صحیح ہے چونکہ اس کا ولی اس کی جانب سے کم سنی کی وجہ سے اعمال حج ادا کرتا ہے، اس لئے وہ ثواب کا مستحق ہو گا، واضح رہے اس سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہو گی، بلکہ بلوغت کے بعد استطاعت کی صورت میں اس پر حج فرض ہے، اور بچپن کا حج اس کے لئے نفل ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1336)