سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب فِي الْمَوَاقِيتِ
باب: میقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1737
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَبَلَغَنِي أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات ۱؎ مقرر کیا، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم ۲؎ کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1737]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ (موجودہ آبارِ علی)، اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن المنازل کے مقامات متعین فرمائے تھے۔ اور مجھے یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم متعین کیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 8 (1525)، صحیح مسلم/الحج 2 (1182)، سنن الترمذی/الحج 17 (831)، سنن النسائی/المناسک 17 (2652)، سنن ابن ماجہ/المناسک 13 (2914)، (تحفة الأشراف: 8326)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 8 (22)، مسند احمد (2/48، 55، 65)، سنن الدارمی/المناسک 5 (1831) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی نیت کرتا ہے۔
۲؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
۲؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1525) صحيح مسلم (1182)
حدیث نمبر: 1738
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَا:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا:" وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ"، وَقَالَ أَحَدُهُمَا:" أَلَمْلَمَ"، قَالَ: فَهُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ. قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: مِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، قَالَ: وَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر کیا پھر ان دونوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، ان دونوں (راویوں میں سے) میں سے ایک نے کہا: ”اہل یمن کے لیے یلملم“، اور دوسرے نے کہا: «ألملم»، اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان لوگوں کی میقاتیں ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کی بھی جو ان جگہوں سے گزر کر آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، اور جو لوگ ان کے اندر رہتے ہوں“۔ ابن طاؤس (اپنی روایت میں) کہتے ہیں: ان کی میقات وہ ہے جہاں سے وہ سفر شروع کریں یہاں تک کہ اہل مکہ مکہ ہی ۱؎ سے احرام باندھیں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1738]
حماد، عمرو بن دینار سے، وہ طاؤس سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن طاؤس (عبداللہ) اپنے باپ طاؤس سے (وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے) روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں (عمرو بن دینار اور عبداللہ بن طاؤس) نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات (مقاماتِ احرام) مقرر فرمائے تھے۔“ ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ اہل یمن کے لیے «يَلَمْلَمُ» اور دوسرے نے کہا «العَلَمُ» ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مقامات ان (مذکورہ) جگہوں کے رہنے والوں کے لیے ہیں اور دوسری جگہوں کے ان لوگوں کے لیے بھی جو یہاں سے گزریں جو کہ حج اور عمرہ کی نیت رکھتے ہوں اور جو ان سے ورے (مکہ کی جانب) مقیم ہوں۔“ ابن طاؤس نے کہا: ”وہ وہیں سے احرام باندھیں جہاں سے وہ سفر شروع کریں حتیٰ کہ اہل مکہ اپنے شہر اور گھر ہی سے احرام باندھ کر نکلیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 18 (1845)، صحیح مسلم/الحج 2 (1183)، سنن النسائی/الحج 20 (2655)، 23 (2658)، (تحفة الأشراف: 5738، 18827)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/238، 249) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ حاجی یا معتمر اگر مکہ یا مذکورہ مواقیت کے اندر رہتا ہو تو اس کا حکم عام لوگوں سے مختلف ہے اس کے لئے میقات پر جانا ضروری نہیں بلکہ اپنے گھر سے نکلتے وقت ہی احرام باندھ لینا اس کے لئے کافی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1526) صحيح مسلم (1181)
حدیث نمبر: 1739
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافِيُّ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ أَفْلَحَ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق ۱؎ کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1739]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ”ذات عرق“ کا مقام متعین فرمایا تھا (احرام کے لیے)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 19 (2654)، 22 (2657)، (تحفة الأشراف: 17438) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سنن ترمذی کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات عمر رضی اللہ عنہ نے متعین کیا تھا، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث نہیں معلوم تھی، آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ میقات مقرر کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی میقات کے عین مطابق ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2531)
أخرجه النسائي (2654 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (2531)
أخرجه النسائي (2654 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1740
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1740]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کے لیے مقام «الْعَقِيقُ» ”عقیق“ مقرر فرمایا تھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 17 (832)، (تحفة الأشراف: 6443) (ضعیف)» (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں، نیز محمد بن علی کا اپنے دادا ابن عباس سے سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (832)
يزيد بن أبي زياد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
إسناده ضعيف
ترمذي (832)
يزيد بن أبي زياد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
حدیث نمبر: 1741
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ حُكَيْمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنْ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، أَوْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ"، شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ أَيَّتُهُمَا قَالَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يَرْحَمُ اللَّهُ وَكِيعًا أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، يَعْنِي إِلَى مَكَّةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مسجد الاقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج اور عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، یا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی“، راوی عبداللہ کو شک ہے کہ انہوں نے دونوں میں سے کیا کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اللہ وکیع پر رحم فرمائے کہ انہوں نے بیت المقدس سے مکہ تک کے لیے احرام باندھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1741]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے مسجد اقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج یا عمرے کا احرام باندھا، اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ یا فرمایا: اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ عبداللہ (ابن عبدالرحمٰن بن یحنس) کو شک ہوا ہے کہ معلوم نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سے کون سی بات کہی تھی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ وکیع رحمہ اللہ پر رحمت فرمائے، انہوں نے بیت المقدس سے مکہ کے لیے احرام باندھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 49 (3001، 3002)، (تحفة الأشراف: 18253)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/299) (ضعیف)» (اس کی راویہ حکیمہ لین الحدیث ہیں، نی زیہ حدیث تمام صحیح روایات کے مخالف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3001،3002)
حكيمة وثقها ابن حبان وحده،والحديث ضعفه البخاري وغيره وھو الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3001،3002)
حكيمة وثقها ابن حبان وحده،والحديث ضعفه البخاري وغيره وھو الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
حدیث نمبر: 1742
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي زُرَارَةُ بْنُ كُرَيْمٍ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو السَّهْمِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ، قَالَ: فَتَجِيءُ الْأَعْرَابُ فَإِذَا رَأَوْا وَجْهَهُ، قَالُوا: هَذَا وَجْهٌ مُبَارَكٌ، قَالَ: وَ وَقَّتَ ذَاتَ عِرْقٍ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ".
حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ منیٰ میں تھے یا عرفات میں، اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا، تو اعراب (دیہاتی) آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے یہ برکت والا چہرہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1742]
جناب حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ یا عرفات میں تھے۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا۔ بدوی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور دیکھتے تو کہتے: ”یہ تو مبارک چہرہ ہے۔“ حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے مقام «ذَاتُ عِرْقٍ» ”ذات عرق“ کو میقات مقرر فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3279)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/485) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
عتبة بن عبد الملك السھمي صحح له الحاكم والذهبي (4/232 ح 7567) وللحديث شاھد انظر الحديث السابق (1739)
عتبة بن عبد الملك السھمي صحح له الحاكم والذهبي (4/232 ح 7567) وللحديث شاھد انظر الحديث السابق (1739)