المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ إِنْ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ أَنْ لَا يُبَيِّنَهُ لَهُ
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو عیب دار چیز بیچے اور عیب بیان نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2181
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القزّاز، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، قال: سمعت يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسة، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"المسلمُ أخو المسلمِ، ولا يَحِلُّ لمسلمٍ إن باع من أخيه بيعًا فيه عَيبٌ أن لا يُبيِّنَه له" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2152 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2152 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی بھائی کے ہاتھ ایسی کوئی چیز فروخت کرے جس میں کوئی عیب ہو مگر یہ کہ وہ اسے اس (خریدار) کے سامنے بالکل واضح کر دے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2181]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2181]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كما قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 7/ 50، يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 2181] [ترقيم الشركة 2162] [ترقيم العلميه 2152]
الحكم على الحديث: إسناده حسن