🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. باب تَبْدِيلِ الْهَدْىِ
باب: ہدی تبدیل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ خَالُ مُحَمَّدٍ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَجِيبًا فَأَعْطَى بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبًا فَأَعْطَيْتُ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ أَفَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا، قَالَ:" لَا انْحَرْهَا إِيَّاهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لِأَنَّهُ كَانَ أَشْعَرَهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے (ہدی کے لیے) ایک اونٹ خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اسی کو نحر کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ممانعت (نہی) اس لیے تھی کہ وہ اس کا اشعار کر چکے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1756]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ بطور ہدی (حرم کی طرف) بھجوایا۔ انہیں اس کے تین سو دینار پیش کیے گئے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک عمدہ اونٹ ہدی کیا ہے اور مجھے اس کے تین سو دینار دیے جا رہے ہیں تو کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت کے دوسرے اونٹ لے لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اسے ہی نحر (ذبح) کرو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس لیے تھا کہ وہ اسے اشعار کر چکے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6748)، وقد أخرجہ: (حم (2/145) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ایک تو جہم لین الحدیث ہیں، دوسرے سالم سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جھم بن الجا رود و ثقه ابن حبان وحده وجھله ابن خزيمة وغيره فھو مجهول،انظر التحرير (983) وقال البخاري :’’ لايعرف له سماع من سالم‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں