سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب تَبْدِيلِ الْهَدْىِ
باب: ہدی تبدیل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ خَالُ مُحَمَّدٍ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَجِيبًا فَأَعْطَى بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبًا فَأَعْطَيْتُ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ أَفَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا، قَالَ:" لَا انْحَرْهَا إِيَّاهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لِأَنَّهُ كَانَ أَشْعَرَهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے (ہدی کے لیے) ایک اونٹ خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اسی کو نحر کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ممانعت (نہی) اس لیے تھی کہ وہ اس کا اشعار کر چکے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1756]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ بطور ہدی (حرم کی طرف) بھجوایا۔ انہیں اس کے تین سو دینار پیش کیے گئے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے ایک عمدہ اونٹ ہدی کیا ہے اور مجھے اس کے تین سو دینار دیے جا رہے ہیں تو کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت کے دوسرے اونٹ لے لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اسے ہی نحر (ذبح) کرو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ اس لیے تھا کہ وہ اسے اشعار کر چکے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6748)، وقد أخرجہ: (حم (2/145) (ضعیف)» (ایک تو جہم لین الحدیث ہیں، دوسرے سالم سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جھم بن الجا رود و ثقه ابن حبان وحده وجھله ابن خزيمة وغيره فھو مجهول،انظر التحرير (983) وقال البخاري :’’ لايعرف له سماع من سالم‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
إسناده ضعيف
جھم بن الجا رود و ثقه ابن حبان وحده وجھله ابن خزيمة وغيره فھو مجهول،انظر التحرير (983) وقال البخاري :’’ لايعرف له سماع من سالم‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1756
| انحرها إياها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1756 کے فوائد و مسائل
الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ، سنن ابوداود 1756
اگر قربانی کا جانور گم ہو جائے
قربانی کا جانور گم ہو گیا، اگر استطاعت ہے، تو دوسرا جانور قربان کر دے، ورنہ کوئی حرج نہیں۔
اس حوالے سے ایک ضعیف حدیث بھی آتی ہے، جس کا تعلق ہدی سے ہے، نہ کہ قربانی سے۔ ہدی اور قربانی کے کئی احکام و مسائل میں فرق ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہدی کے لیے عمدہ قسم کی اونٹنی خاص کر دی، انہیں اس اونٹنی کی تین سو دینار قیمت مل رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عمدہ قسم کی اونٹنی ہدی کے لیے رکھی ہے، مجھے اس کے تین سو دینار مل رہے ہیں، کیا میں اسے بیچ سکتا ہوں اور اس کے بدلے میں زیادہ اونٹ خرید لوں؟ فرمایا: نہیں، اونٹنی کو ہی نحر کیجیے۔“ [مسند الإمام أحمد: 6325، سنن أبي داود: 1756]
سند ضعیف و منقطع ہے۔
➊ جہم بن جارود مجہول الحال ہے۔ ➋ جہم بن جارود کا سالم بن عبد اللہ سے سماع نہیں ہے۔
◈ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لَا يُعْرَفُ لِجَهْمٍ سَمَاعٌ مِّنْ سَالِمٍ.»
”جہم کا سالم سے سماع معروف نہیں ہے۔“ [التاريخ الكبير: 230/2]
قربانی کا جانور گم ہو گیا، اگر استطاعت ہے، تو دوسرا جانور قربان کر دے، ورنہ کوئی حرج نہیں۔
اس حوالے سے ایک ضعیف حدیث بھی آتی ہے، جس کا تعلق ہدی سے ہے، نہ کہ قربانی سے۔ ہدی اور قربانی کے کئی احکام و مسائل میں فرق ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہدی کے لیے عمدہ قسم کی اونٹنی خاص کر دی، انہیں اس اونٹنی کی تین سو دینار قیمت مل رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عمدہ قسم کی اونٹنی ہدی کے لیے رکھی ہے، مجھے اس کے تین سو دینار مل رہے ہیں، کیا میں اسے بیچ سکتا ہوں اور اس کے بدلے میں زیادہ اونٹ خرید لوں؟ فرمایا: نہیں، اونٹنی کو ہی نحر کیجیے۔“ [مسند الإمام أحمد: 6325، سنن أبي داود: 1756]
سند ضعیف و منقطع ہے۔
➊ جہم بن جارود مجہول الحال ہے۔ ➋ جہم بن جارود کا سالم بن عبد اللہ سے سماع نہیں ہے۔
◈ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لَا يُعْرَفُ لِجَهْمٍ سَمَاعٌ مِّنْ سَالِمٍ.»
”جہم کا سالم سے سماع معروف نہیں ہے۔“ [التاريخ الكبير: 230/2]
[فتاوی امن پوری، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1756
1756. اردو حاشیہ: جب قربانی یا ہدی کے لیے جانور خاص کر دیا گیا ہو تو اسے تبدیل کرنا درست نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1756]
Sunan Abi Dawud Hadith 1756 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي