المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. لا صدقة ولا جهاد فبم تدخل الجنة
جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن اور ایک رات پہرہ دے، اسے ایک مہینے کے روزوں اور قیام کا اجر ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 2452
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان بن الحَسَن الفقيه إملاءً، حدثنا هِلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا عبد الله بن جعفر الرَّقِّي، حدثنا عُبيد الله بن عَمرو الرَّقِّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن جَبَلة بن سُحَيم، حدثنا أبو المثنَّى العَبْدي، قال: سمعت ابن الخَصَاصِيَةِ يقول: أتيتُ رسولَ الله ﷺ لأُبايِعَه على الإسلام، فاشْتَرط عليَّ:"تشهدُ أن لا إلهَ إِلَّا اللهُ، وأنَّ محمدًا عبدُه ورسُولُه، وتُصلي الخَمْسَ، وتصومُ رمضانَ، وتُؤدِّي الزكاةَ، وتحُجَّ البيتَ، وتجاهِدُ في سبيل الله"، قال: قلتُ: يا رسول الله، أمَّا اثنتان فلا أُطِيقُهما، أما الزكاةُ فما لي إلّا عَشرُ ذَوْدٍ، هُنَّ رَسَلُ أهلي وحَمُولَتُهم، وأما الجهادُ فيزعُمُون أنه مَن وَلَّى فقد باءَ بغضَبٍ من الله، فأخافُ إِذا حَضَرني قتالٌ كرهتُ الموتَ وجَشِعَتْ (1) نَفْسي، قال: فَقَبَضَ رسولُ الله ﷺ يدَه، ثم حَرَّكها، ثم قال:"لا صَدقةَ ولا جهادَ! فبِمَ تَدخُلُ الجنةَ؟" قال: ثم قلتُ: يا رسولَ الله، أُبايِعُك؛ فبايَعَني عليهنَّ كُلِّهنّ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وبَشِير ابن الخَصَاصِيَة من المذكورين في الصحابة من الأنصار.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2421 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وبَشِير ابن الخَصَاصِيَة من المذكورين في الصحابة من الأنصار.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2421 - صحيح
سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام پر بیعت کے لیے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ شرائط لگائیں: ”تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں، پانچوں نمازیں پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو“، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان میں سے دو چیزوں کی میں طاقت نہیں رکھتا، ایک زکوٰۃ کہ میرے پاس تو صرف دس اونٹنیاں ہیں جو میرے گھر والوں کے دودھ کا ذریعہ اور بوجھ ڈھونے کا کام دیتی ہیں، اور دوسرا جہاد، کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ جو (میدان سے) پیٹھ پھیر گیا وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا، تو مجھے ڈر ہے کہ جب لڑائی کا وقت آئے تو میں موت کو ناپسند کروں اور میرا نفس بزدلی دکھائے، (راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، پھر اسے حرکت دی اور فرمایا: ”نہ زکوٰۃ اور نہ جہاد! تو پھر تم کس چیز کے ذریعے جنت میں داخل ہو گے؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے (ان سب پر) بیعت کرتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان تمام باتوں پر بیعت لے لی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2452]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2452]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير أبي المثنّى العَبْدي - واسمه مُؤثِر بن عَفَازَة، فلم يرو عنه غير جَبَلَة بن سُحَيم، ووثقه العجلي وذكره ابن حبان في "الثقات"، وهو من أصحاب عبد الله بن مسعود، فهو تابعي كبير، فيمكن تحسين حديثه، لكن يخالف حديثَه هذا حديثُ جابر بن عبد الله الصحيح في ...» [ترقيم الرساله 2452] [ترقيم الشركة 2434] [ترقيم العلميه 2421]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير أبي المثنّى العَبْدي - واسمه مُؤثِر بن عَفَازَة