سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب الاِشْتِرَاطِ فِي الْحَجِّ
باب: حج میں شرط لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1776
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَأَشْتَرِطُ؟ قَالَ: نَعَمْ"، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ:" قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، (لگا سکتی ہو)“، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني» ”حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1776]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (ام حکیم) ضباعہ بنت الزبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں تو (کیا) شرط کر لوں؟“ فرمایا: ”ہاں!“ کہنے لگیں: ”تو کیسے کہوں؟“ فرمایا: ”کہو: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”میں راستے میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں تو مجھے روک لے گا۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 17 (941)، سنن النسائی/الحج 60 (2767)، (تحفة الأشراف: 5754، 6214، 6232)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 15 (1208)، سنن ابن ماجہ/المناسک 24 (2936)، مسند احمد (1/337، 352)، سنن الدارمی/المناسک 15 (1852) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الترمذي (941 وسنده حسن) ورواه مسلم (1208)
أخرجه الترمذي (941 وسنده حسن) ورواه مسلم (1208)