المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
76. مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ.
جو اللہ کی راہ میں قتل ہو یا مر جائے وہ جنت میں ہے
حدیث نمبر: 2553
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، أخبرنا مُسدَّد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي؛ قالا: حدثنا إسماعيل -وهو ابن عُلَيَّة- عن أيوب وهشام وابن عَوْن، عن محمد، عن (1) أبي العَجْفاء السُّلَمي، قال: سمعتُ عمر بن الخطّاب يقول: وأخرى تقُولُونها لمن قُتِل في مَغازِيكُم أو مات: قُتِل فلانٌ وهو شهيد، أو مات فلان شهيدًا، ولعله أن يكونَ أَوْقَرَ عَجُزَ دابتِه -أو قال: راحلته- ذهبًا أو وَرِقًا يلتمس التجارة، فلا تقولوا ذاكُم، ولكن قولوا كما قال النبيُّ ﷺ:"مَن قُتِل في سبيلِ الله أو ماتَ، فهو في الجنّة" (2) .
هذا حديث كبيرٌ صحيح، ولم يُخرجاه ولا واحدٌ منهما، لقول سلمة بن علقمة عن ابن سِيرين أنه قال: نُبِّئْتُ عن أبي العَجْفاء، وأنا ذاكرٌ بمشيئة الله في كتاب النكاح ما يُستدل به على صحته (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2521 - صحيح
هذا حديث كبيرٌ صحيح، ولم يُخرجاه ولا واحدٌ منهما، لقول سلمة بن علقمة عن ابن سِيرين أنه قال: نُبِّئْتُ عن أبي العَجْفاء، وأنا ذاكرٌ بمشيئة الله في كتاب النكاح ما يُستدل به على صحته (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2521 - صحيح
ابوالعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک اور بات جو تم لوگ اپنے ان غزووں میں قتل ہونے والوں یا مرنے والوں کے بارے میں کہتے ہو وہ یہ ہے کہ: ”فلاں شخص قتل ہوا اور وہ شہید ہے“ یا ”فلاں شخص شہید مرا“، حالانکہ ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی سواری کے پچھلے حصے کو «أَوْقَرَ عَجُزَ دابتِه» ”تجارت کی غرض سے سونے یا چاندی سے لاد رکھا ہو“، پس تم لوگ ایسا (قطعی طور پر) نہ کہا کرو بلکہ وہی کہا کرو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو اللہ کی راہ میں قتل ہوا یا فوت ہوا، وہ جنت میں ہے۔““
یہ ایک عظیم اور صحیح حدیث ہے لیکن شیخین میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ سلمہ بن علقمہ نے ابن سیرین سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ”مجھے ابوالعجفاء کے حوالے سے خبر دی گئی ہے“، اور میں (امام حاکم) ان شاء اللہ کتاب النکاح میں ایسی چیز ذکر کروں گا جس سے اس کی صحت پر استدلال کیا جا سکے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2553]
یہ ایک عظیم اور صحیح حدیث ہے لیکن شیخین میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ سلمہ بن علقمہ نے ابن سیرین سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ”مجھے ابوالعجفاء کے حوالے سے خبر دی گئی ہے“، اور میں (امام حاکم) ان شاء اللہ کتاب النکاح میں ایسی چیز ذکر کروں گا جس سے اس کی صحت پر استدلال کیا جا سکے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو المثنَّى: هو معاذ بن المثنَّى العَنبَري، ومُسدَّد: هو ابن مُسَرْهَد، وأيوب: هو ابن أبي تَميمة السَّخْتياني، وهشام: هو ابن حسان، وابن عَوْن: هو عبد الله، ومحمد: هو ابن سيرين، وأبو العجفاء: هو هَرِم بن نُسيب، وقيل في اسم أبيه غير ذلك.» [ترقيم الرساله 2553] [ترقيم الشركة 2536] [ترقيم العلميه 2521]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح