🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

77. مَنْ غَزَا فَلَهُ مَا نَوَى .
جو جہاد کے لیے نکلا اس کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2554
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن جَبَلة بن عطية، عن يحيى بن الوليد بن عُبادة، عن جده عبادة بن الصامِت، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن غَزَا وهو لا يَنْوي في غَزَاتِه إِلا عِقالًا، فله ما نَوَى" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث يعلى ابن مُنْية الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2522 - صحيح
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے (اللہ کی راہ میں) غزوہ کیا اور اس نے اپنے اس غزوے میں محض ایک رسی (اونٹ باندھنے کا عقال) حاصل کرنے کی نیت رکھی، تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير يحيى بن الوليد بن عبادة بن الصامت، فلم يرو عنه غير جَبَلة بن عطية، ولم يذكره غير ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح حديثه هذا ابن حبان والضياء المقدسي.» [ترقيم الرساله 2554] [ترقيم الشركة 2537] [ترقيم العلميه 2522]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2555
أخبرَنَاه أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو توْبة الربيع بن نافع، حدثنا بَشير بن طلحة، عن خالد بن دُرَيك، عن يعلى ابن مُنْية، قال: كان النبيُّ ﷺ يبعثُني في سَراياهُ، فبعثني ذاتَ يوم، وكان رجلٌ يَركَبُ بَغْلي، فقلتُ له: ارحَلْ فقال: ما أنا بخَارجٍ معك، قلت: لِمَ؟ قال: حتى تجعلَ لي ثلاثةَ دنانيرَ، قلتُ: الآن حينَ ودَّعتُ النبيَّ ﷺ، ما أنا براجعٍ إليه، ارحَلْ ولك ثلاثةُ دنانيرَ، فلما رجعتُ من غَزاتي ذكرتُ ذلك للنبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ:"أعطِها إياهُ، فإنها حَظُّهُ مِن غَزَاتِه" (2) .
سیدنا یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے فوجی دستوں (سرايا) میں بھیجا کرتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تو ایک شخص میرے خچر پر سوار ہونے والا تھا، میں نے اس سے کہا: کوچ کرو (روانہ ہو جاؤ)، تو اس نے کہا: میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: یہاں تک کہ تم میرے لیے تین دینار مقرر کر دو، میں نے (دل میں) کہا: اس وقت جبکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہہ چکا ہوں، اب میں آپ کے پاس دوبارہ واپس جانے والا نہیں ہوں، (چنانچہ میں نے اس سے کہا:) تم چلو اور تمہارے لیے تین دینار (طے) ہیں، پھر جب میں اپنے غزوے سے واپس آیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہ رقم دے دو، کیونکہ اس کے غزوے سے اس کا (اخروی) حصہ بس یہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن لا يثبت أنَّ خالد بن دُريك لقي يعلى بن مُنية، لكنه لم ينفرد به فقد تابعه عبد الله بن فيروز الديلمي، كما سيأتي برقم (2562).» [ترقيم الرساله 2555] [ترقيم الشركة 2538]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں