المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
77. مَنْ غَزَا فَلَهُ مَا نَوَى .
جو جہاد کے لیے نکلا اس کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا
حدیث نمبر: 2554
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن جَبَلة بن عطية، عن يحيى بن الوليد بن عُبادة، عن جده عبادة بن الصامِت، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن غَزَا وهو لا يَنْوي في غَزَاتِه إِلا عِقالًا، فله ما نَوَى" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث يعلى ابن مُنْية الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2522 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث يعلى ابن مُنْية الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2522 - صحيح
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اونٹ باندھنے کی ایک رسی کے حصول کی خاطر جہاد میں شرکت کرے گا، اس کے لیے اس کی نیت کے مطابق اجر ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یعلیٰ بن امیہ کی روایت کردہ درجِ ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2554]
حدیث نمبر: 2555
أخبرَنَاه أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو توْبة الربيع بن نافع، حدثنا بَشير بن طلحة، عن خالد بن دُرَيك، عن يعلى ابن مُنْية، قال: كان النبيُّ ﷺ يبعثُني في سَراياهُ، فبعثني ذاتَ يوم، وكان رجلٌ يَركَبُ بَغْلي، فقلتُ له: ارحَلْ فقال: ما أنا بخَارجٍ معك، قلت: لِمَ؟ قال: حتى تجعلَ لي ثلاثةَ دنانيرَ، قلتُ: الآن حينَ ودَّعتُ النبيَّ ﷺ، ما أنا براجعٍ إليه، ارحَلْ ولك ثلاثةُ دنانيرَ، فلما رجعتُ من غَزاتي ذكرتُ ذلك للنبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ:"أعطِها إياهُ، فإنها حَظُّهُ مِن غَزَاتِه" (2) .
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جنگی مہموں میں بھیجا کرتے تھے، ایک دن آپ نے مجھے (ایک جنگی مہم پر) روانہ کیا۔ ایک شخص گھڑسواری کیا کرتا تھا، میں نے اس کو کہا کہ تیاری کرو۔ اس نے کہا: میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ میں نے وجہ پوچھی، تو کہنے لگا: اگر تین دینار مجھے دو گے تو میں چلوں گا۔ میں نے کہا: اب جبکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے الوداع ہو کر آ گیا ہوں، اب ان کی طرف لوٹ کر نہیں جاؤں گا تم چلو (ٹھیک ہے) تمہیں تین دینار مل جائیں گے۔ پھر جب میں اس جنت سے واپس لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو تین درہم دے دو کیونکہ تمہاری جنگ سے یہ اس کا حصہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2555]