🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

90. ذِكْرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ
سورۂ توبہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2583
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، قال: قرأتُ على أبي اليَمَان، أنَّ حَرِيز بن عثمان حدَّثه عن عبد الرحمن بن مَيسَرة، قال: حدثني أبو راشد الحُبْراني، قال: وافَيتُ المِقدادَ بنَ الأسود فارسَ رسولِ الله ﷺ جالسًا على تابوتٍ من توابيت الصَّيارِفة (2) وفَضَلَ عنها عِظَمًا، وهو يريد الغزو، فقلت: لقد أعذَرَ اللهُ إليك، فقال: أبَتْ عليَّ سورة البَحُوث، قال الله ﷿: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] ؛ يعني: سورة التوبة" (3) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2551 - صحيح
ابوراشد حبرانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو صرافوں کے بڑے صندوقوں میں سے ایک پر بیٹھے ہوئے تھے اور اپنی بھاری جسامت کی وجہ سے اس سے باہر نکل رہے تھے، وہ غزوے کا ارادہ رکھتے تھے، میں نے (ان کی معذوری دیکھ کر) کہا: اللہ نے آپ کو (جہاد سے پیچھے رہنے کا) عذر دے رکھا ہے، تو انہوں نے فرمایا: سورہ بحوث (یعنی سورہ توبہ) نے مجھ پر (پیچھے رہنا) گراں کر دیا ہے، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ تم نکلو خواہ تم ہلکے ہو یا بوجھل۔ [سورة التوبة: 41] ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2583]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن ميسرة: وهو الحضرمي الشامي. وأخرجه أبو عُبيد القاسم بن سلّام في "الناسخ والمنسوخ" (368)، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 6/ 1802، وأبو بكر الجصّاص في "أحكام القرآن" 4/ 309 - 310 من طريق أبي اليمان، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2583] [ترقيم الشركة 2566] [ترقيم العلميه 2551]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں