المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
92. اسْتِئْذَانُ الْعَبْدِ سَيِّدَتَهُ لِلْجِهَادِ .
غلام کا جہاد کے لیے اپنی مالکہ سے اجازت لینا
حدیث نمبر: 2585
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى بن موسى الأَنطاكي، أخبرنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن ابن جُرَيج، أخبرني عبد الله بن أبي أُميَّة، عن الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة: أنَّ رسول الله ﷺ كان في بعض مغازيه مَرَّ بأناس من مُزَينة، فاتّبَعه عبدٌ لامرأة منهم، فلما كان في بعض الطريق سلّم عليه، فقال:"فلانٌ؟" قال: نعم، قال:"ما شأنُك؟" قال: أُجاهِد معك، قال:"أذِنَتْ لك سيدتُك؟" قال: لا، قال:"ارجع إليها، فإن مَثَلَك مَثَلُ عبدٍ لا يُصلي إن متَّ قبل أن تَرجِعَ إليها، واقرأْ عليها السلامَ" فرجع إليها، فأخبرها الخبرَ، فقالت: اللهِ هو أمَرَ أن تقرأ عليَّ السلام؟ قال: نعم، قالت: ارجِعْ فجاهِدْ معه (2) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2553 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2553 - صحيح
حارث بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے میں تھے کہ آپ کا گزر قبیلہ مزینہ کے پاس سے ہوا، ان میں سے ایک عورت کا غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا، جب راستے میں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”فلاں ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہارا کیا ارادہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہاری مالکن نے تمہیں اجازت دی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف واپس چلے جاؤ، کیونکہ اگر تم واپس جانے سے پہلے مر گئے تو تمہاری مثال اس غلام جیسی ہوگی جو نماز نہیں پڑھتا، اور اسے میرا سلام کہنا“، چنانچہ وہ واپس گیا اور اپنی مالکن کو خبر دی، اس نے پوچھا: کیا اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حکم دیا ہے کہ مجھے سلام کہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو اس نے کہا: اب واپس جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2585]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2585]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن أبي أُمية، ولإرساله أيضًا، وقد نبَّه الحافظ ابن حجر على إرساله في "الإصابة" 2/ 195، لكن غَفَلَ عن إعلاله أيضًا بجهالة عبد الله بن أبي أمية، فإنه لم يرو عنه غير ابن جُرَيج، ولم يذكره غير ابن حبان في "الثقات"، وقيل: اسمه عبد ربّه، ...» [ترقيم الرساله 2585] [ترقيم الشركة 2568] [ترقيم العلميه 2553]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن أبي أُمية