سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب كَيْفَ التَّلْبِيَةُ
باب: تلبیہ (لبیک کہنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1812
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،" أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ"، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِي تَلْبِيَتِهِ: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: «لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك» ”حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ستائش، نعمتیں اور فرماروائی تیری ہی ہے تیرا ان میں کوئی شریک نہیں“۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر تلبیہ میں اتنا مزید کہتے «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير بيديك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں، حاضر ہوں، حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف رغبت اور عمل ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1812]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے الفاظ اس طرح تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”حاضر ہوں میں، اے اللہ! حاضر ہوں۔ حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیری ہیں اور ملک بھی تیرا ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ نافع نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے تلبیہ میں اضافہ کرتے ہوئے یوں کہا کرتے تھے: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» ”میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں اور بہت سعادت مند ہوں۔ خیر اور بھلائی سب تیرے ہاتھوں میں ہے۔ ہماری سب رغبتیں اور سوال تیری طرف ہیں اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 26 (1549)، واللباس 69(5951)، صحیح مسلم/الحج 3 (1184)، سنن النسائی/الحج 54 (2748، 2749)، (تحفة الأشراف: 8344)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 13 (825)، سنن ابن ماجہ/المناسک 15 (2918)، موطا امام مالک/الحج 9(28)، مسند احمد (2/3، 28، 28، 34، 41، 43، 47، 48، 53، 76، 77، 79، 131)، سنن الدارمی/المناسک 13 (1849) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1549) صحيح مسلم (1184)
حدیث نمبر: 1813
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ التَّلْبِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلَامِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلَا يَقُولُ لَهُمْ شَيْئًا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا، پھر انہوں نے تلبیہ کا اسی طرح ذکر کیا جیسے ابن عمر کی حدیث میں ہے اور کہا: لوگ (اپنی طرف سے اللہ کی تعریف میں) «ذا المعارج» اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنتے تھے لیکن آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1813]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کی مانند تلبیہ کے الفاظ بیان کیے، انہوں نے کہا: ”لوگ «ذَا الْمَعَارِجِ» اور اس طرح کے الفاظ زیادہ کرتے تھے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سنتے اور انہیں کچھ نہ کہتے تھے ( «ذَا الْمَعَارِجِ» یعنی ”اے اللہ! بلندیوں والے اور انعامات کے مالک“۔)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 15 (2919) (کلاھما بدون قولہ: ’’والناس یزیدون الخ)، (تحفة الأشراف: 2604)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 19(1540) (في سیاق حجة النبي صلی اللہ علیہ وسلم الطویل) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خاموشی اور سکوت تلبیہ کے مخصوص الفاظ پر اضافہ کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ افضل وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ثابت ہے اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداومت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
صححه ابن خزيمة (2626 وسنده صحيح)
صححه ابن خزيمة (2626 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1814
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي وَمَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ، أَوْ قَالَ: بِالتَّلْبِيَةِ يُرِيدُ أَحَدَهُمَا".
سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ۱؎ اور ساتھ والوں کو «الإهلال» یا فرمایا «التلبية» میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں“ ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1814]
جناب خلاد بن سائب انصاری رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ اور دوسرے ساتھ والوں کو حکم دوں کہ تلبیہ کہنے میں اپنی آوازیں اونچی رکھیں۔“ راوی کہتا ہے کہ آپ کے الفاظ «بِالْإِهْلَالِ» تھے یا «بِالتَّلْبِيَةِ» (معنی ایک ہی ہیں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 15 (829)، سنن النسائی/الحج 55 (2754)، سنن ابن ماجہ/المناسک 16 (2922)، (تحفة الأشراف: 3788)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 10 (34)، مسند احمد (4/55، 56)، سنن الدارمی/المناسک 14 (1850) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پتہ چلا کہ مردوں کے لئے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مستحب ہے، «أصحابي» کی قید سے اس حکم سے عورتیں خارج ہو گئی ہیں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ بلند آواز سے تلبیہ نہ پکاریں۔
۲؎: اہلال اور تلبیہ دونوں ایک ہی معنی میں ہے، راوی کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلال کہا یا تلبیہ، مراد یہ ہے کہ دونوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایک ہی لفظ کہا۔
۲؎: اہلال اور تلبیہ دونوں ایک ہی معنی میں ہے، راوی کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلال کہا یا تلبیہ، مراد یہ ہے کہ دونوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایک ہی لفظ کہا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2549)
أخرجه الترمذي (829 وسنده صحيح) والنسائي (2754 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (2549)
أخرجه الترمذي (829 وسنده صحيح) والنسائي (2754 وسنده صحيح)