🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. باب الرَّجُلِ يَحُجُّ عَنْ غَيْرِهِ
باب: حج بدل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1809
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ"، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پاس فتویٰ پوچھنے آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ اس عورت کی طرف سے دوسری طرف پھیرنے لگے ۱؎، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر (عائد کردہ) فریضہ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں، اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1809]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (ان کے بھائی) حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھنے کو آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ انہیں دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔ اس عورت نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کا فریضہ حج اس کے بندوں پر، میرے والد کو اس حالت میں پہنچا ہے کہ وہ سواری پر ٹکنے کی سکت بھی نہیں رکھتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 1 (1513)، وجزاء الصید 23 (1854)، 24 (1855)، والمغازي 77 (4399)، والاستئذان 2 (6228)، صحیح مسلم/الحج 71 (1334)، سنن النسائی/الحج 8 (2634)، 9 (2636)، 12 (2642)، (تحفة الأشراف: 5670، 6522)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 85 (928)، سنن ابن ماجہ/المناسک 10 (2909)، موطا امام مالک/الحج30 (97)، مسند احمد (1/219، 251، 329، 346، 359)، سنن الدارمی/الحج 23 (1873) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: فضل بن عباس رضی اللہ عنہما خوبصورت اور جوان تھے اور وہ عورت بھی حسین تھی، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا رخ دوسری طرف پھیر دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1513) صحيح مسلم (1334)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1810
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بِمَعْنَاهُ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ حَفْصٌ فِي حَدِيثِهِ: رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، أَنْهِ قَال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ، قَالَ:" احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ".
ابورزین رضی اللہ عنہ بنی عامر کے ایک فرد کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی اور نہ سواری پر سوار ہونے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج اور عمرہ کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1810]
بنو عامر کے ایک شخص ابورزین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں اور حج عمرے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ سواری پر سوار ہو سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کی طرف سے حج کرو اور عمرہ (بھی)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحج 87 (930)، سنن النسائی/الحج 2 (2622)، 10 (2638)، سنن ابن ماجہ/المناسک 10 (2906)، (تحفة الأشراف: 11173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/10، 11، 12) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2528)
أخرجه الترمذي (930 وسنده صحيح) والنسائي (2622 وسنده صحيح) وابن ماجه (2906 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (3040)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَ إِسْحَاقُ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، قَالَ:" مَنْ شُبْرُمَةُ؟" قَالَ: أَخٌ لِي، أَوْ قَرِيبٌ لِي، قَالَ:" حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا: «لبيك عن شبرمة» حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: شبرمہ کون ہے؟، اس نے کہا: میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اپنا حج کر لیا ہے؟، اس نے جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اپنا حج کرو پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1811]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا: «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: شبرمہ کون ہے؟ اس نے کہا: میرا بھائی ہے یا قریبی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پہلے) اپنی طرف سے حج کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المناسک 9 (2903)، (تحفة الأشراف: 5564) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بعض علماء کے نزدیک حج بدل (دوسرے کی طرف سے حج کرنا) درست ہے، خواہ اپنی طرف سے حج نہ کر سکا ہو، بعض ائمہ کے نزدیک اگر وہ اپنی طرف سے حج نہیں کر سکا ہے تو دوسرے کی طرف سے حج بدل درست نہ ہو گا، اور یہی صحیح مذہب ہے، اس لئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جو «لبيك عن شبرمة» کہہ رہا تھا حکم دیا: «حج عن نفسك ثم حج عن شبرمة» : پہلے اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2529)
وللحديث شاھد حسن لذاته عند الطبراني في الصغير (226/1) وشاھد آخر عند البيهقي (179/5، 180) والطحاوي في مشكل الآثار (381/6 تحت ح2548) وسنده صحيح موقوف وله حكم الرفع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں