المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
106. النَّهْيُ عَنِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ الْأَخَوَيْنِ فِي الْبَيْعِ
خرید و فروخت میں دو بھائیوں کو جدا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2606
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل من أصل كتابه، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا شُعبة، عن الحَكَم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن علي، قال: أمرَني رسول الله ﷺ أن أبيع أخوَين من السَّبْي فبعْتُهما (1) ، ثم أتيتُ رسولَ الله ﷺ فأخبرتُه بِبَيعهما، فقال:"فَرَّقْتَ بينهما؟" قلت: نعم، قال:"فارتجِعْهما، ثم بِعْهما ولا تُفرّق بينهما" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله إسناد آخر عن الحكم بن عتيبة صحيح أيضًا على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2574 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله إسناد آخر عن الحكم بن عتيبة صحيح أيضًا على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2574 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو قیدی بھائی بیچنے کا حکم دیا۔ تو میں نے ان کو بیچ دیا پھر واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے انہیں بیچ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے ان دونوں کو الگ الگ بیچا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو واپس لے کر آؤ اور اکٹھے بیچو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی حکم بن قتیبہ کے حوالے سے ایک دوسری سند بھی ہے وہ بھی شیخین کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2606]