🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. باب الْمُحْرِمِ يُؤَدِّبُ غُلاَمَهُ
باب: محرم اپنے غلام کو جرم پر سزا دے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1818
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلْنَا، فَجَلَسَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَكَانَتْ زِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَزِمَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً مَعَ غُلَامٍ لِأَبِي بَكْرٍ، فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُ أَنْ يَطْلُعَ عَلَيْهِ فَطَلَعَ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ، قَالَ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ؟ قَالَ: فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ، وَيَقُولُ:" انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ"، قَالَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ: فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ، يَقُولَ:" انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ" وَيَتَبَسَّمُ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلے، جب ہم مقام عرج میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، ہم بھی اترے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں، اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھی۔ اس سفر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے سامان اٹھانے کا اونٹ ایک ہی تھا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے پاس تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ غلام آئے جب وہ آیا تو اس کے ساتھ اونٹ نہ تھا، انہوں نے پوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا کل رات وہ گم ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: ایک ہی اونٹ تھا اور وہ بھی تو نے گم کر دیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے؟ (ابن ابی رزمہ نے کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ کچھ نہیں فرما رہے تھے کہ دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے اور آپ مسکرا رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1818]
دخترِ ابوبکر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حج کے لیے نکلے، جب ہم مقامِ عرج پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور ہم بھی اتر پڑے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھیں اور میں اپنے والد (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے پاس بیٹھی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامانِ سفر کا جانور ایک ہی تھا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایک غلام کی تحویل میں تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آ جائے، چنانچہ جب وہ آیا تو وہ اونٹ اس کے ساتھ نہیں تھا، انہوں نے پوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا: وہ آج رات گم ہو گیا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: صرف ایک اونٹ اور وہ بھی تو نے گم کر دیا؟ اور پھر اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور فرمانے لگے: دیکھو اس محرم کو، کیا کر رہا ہے؟ ابن ابی رزمہ کے الفاظ ہیں: «فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم » یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ نہ کہا کہ دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے! اور مسکراتے رہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المناسک 21 (2933)، (تحفة الأشراف: 15715) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3392)
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں