سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب الرَّجُلِ يُحْرِمُ فِي ثِيَابِهِ
باب: آدمی سلے ہوئے کپڑے میں احرام باندھ لے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1819
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ أَثَرُ خَلُوقٍ، أَوْ قَالَ: صُفْرَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟" قَالَ:" اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الْخَلُوقِ، أَوْ قَالَ: أَثَرَ الصُّفْرَةِ، وَاخْلَعِ الْجُبَّةَ عَنْكَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا صَنَعْتَ فِي حَجَّتِكَ".
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، اس کے بدن پر خوشبو یا زردی کا نشان تھا اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، پوچھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کس طرح عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی، جب وحی اتر چکی تو آپ نے فرمایا: ”عمرے کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟“ فرمایا: ”خلوق کا نشان، یا زردی کا نشان دھو ڈالو، جبہ اتار دو، اور عمرے میں وہ سب کرو جو حج میں کرتے ہو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1819]
جناب صفوان اپنے والد یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ مقامِ جعرانہ میں تھے اور اس آدمی پر «خَلُوق» خوشبو کا اثر تھا (جو کہ زعفران وغیرہ سے بنی ہوتی ہے) یا کہا زرد رنگ کی خوشبو تھی اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اپنے عمرے میں کیسے کروں؟“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کیفیت دور ہوئی تو دریافت کیا: ”وہ عمرے کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” «خَلُوق» خوشبو دھو ڈالو۔“ یا فرمایا: ”زرد رنگ دھو ڈالو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 17 (1536) والعمرة 10(1789)، وجزاء الصید 19(1847)، والمغازي 56 (4329)، وفضائل القرآن 2 (4985)، صحیح مسلم/الحج 1 (1180)، سنن الترمذی/الحج 20(836)، سنن النسائی/الحج 29 (2669)، 44 (2710)، (تحفة الأشراف: 11836)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/222، 224) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1789) صحيح مسلم (1180)
مشكوة المصابيح (2528)
مشكوة المصابيح (2528)
حدیث نمبر: 1820
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، وَهُشيْمٌ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ فِيهِ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْلَعْ جُبَّتَكَ"، فَخَلَعَهَا مِنْ رَأْسِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے بھی یعلیٰ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جبہ اتار دو“، چنانچہ اس نے اپنے سر کی طرف سے اسے اتار دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1820]
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ یہ قصہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اپنا جبہ اتار دو۔“ چنانچہ اس نے اسے اپنے سر کی طرف سے اتار دیا اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، سنن الترمذی/الحج 20 (835) سنن النسائی/الکبری/ فضائل القرآن (7981)، (من 1820 حتی 1822)، (تحفة الأشراف: 11836، 11844)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/224) (صحیح)» (حدیث میں واقع یہ لفظ «من رأسه» منکر ہے) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 6؍ 84)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ومن رأسه فإنه منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطاء عن يعلي منقطع
والحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس (الفتح المبين في تحقيق طبقات المدلسين ص 70 وتحفة الأقوياء :75) و قال النووي : ضعيف عند الجمھور (المجموع شرح المھذب 1/ 274) و قال ابن حجر : فإن الأكثر علي تضعيفه (التلخيص الحبير 2/ 226 ح 962)
و الحديث السابق (الأصل : 1819) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
إسناده ضعيف
عطاء عن يعلي منقطع
والحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس (الفتح المبين في تحقيق طبقات المدلسين ص 70 وتحفة الأقوياء :75) و قال النووي : ضعيف عند الجمھور (المجموع شرح المھذب 1/ 274) و قال ابن حجر : فإن الأكثر علي تضعيفه (التلخيص الحبير 2/ 226 ح 962)
و الحديث السابق (الأصل : 1819) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
حدیث نمبر: 1821
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمَدَانِيُّ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ فِيهِ:" فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْزِعَهَا نَزْعًا وَيَغْتَسِلَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا" وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا ”پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1821]
سیدنا یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ نے یہ خبر روایت کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ: ”اسے اتار دو (جبہ کو) اور غسل کرو دو بار یا تین بار۔“ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1819)، (تحفة الأشراف: 11836) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: منیہ یعلیٰ کی والدہ ہیں ان کے والد کا نام امیّہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1822
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرِمٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَقَدْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ، وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ.
یعلیٰ بن امیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جعرانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے عمرہ کا احرام اور جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اس کی داڑھی و سر کے بال زرد تھے، اور راوی نے یہی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1822]
جناب صفوان اپنے والد یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ”جعرانہ مقام پر ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اس نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا، جبہ پہنے ہوئے تھا اور اس کی ڈاڑھی اور سر میں زرد رنگ کی خوشبو لگی ہوئی تھی“، اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1819)، (تحفة الأشراف: 11836) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1180)