🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. خَيْرُ الصَّدَاقِ أَيْسَرُهُ
سب سے بہتر مہر وہ ہے جو آسان ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2777
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثني أبو الأَصبَغ عبد العزيز بن يحيى الحرّاني، أخبرنا محمد بن سلمة، عن أبي عبد الرحيم خالد بن أبي يزيد، عن زيد بن أبي أُنَيسة، عن يزيد بن أبي حبيب، عن مَرثَد بن عبد الله، عن عُقْبة بن عامر: أنَّ النبي ﷺ قال لرجل:"أترضى أن أُزوِّجَك فلانةَ؟" قال: نعم، وقال للمرأة:"أترضَينَ أن أُزوِّجَك فلانًا؟" قالت: نعم، فزوَّج أحدَهما صاحبَه، ولم يُفرِضْ لها صَداقًا، ولم يُعطِها شيئًا، وكان ممَّن شهد الحُديبيَة، وكان مَن شهد الحُديبيَةَ له سهمٌ بخيبر، فلما حَضَرتْه الوفاةُ قال: إنَّ رسول الله ﷺ زَوَّجني فلانةَ ولم أفرضْ لها صَداقًا، ولم أُعطِها شيئًا، وإني أُشْهِدُكم أني أعطيتُها صَداقَها سَهمِي بخيبر، فأخذتْ سهمَه فباعتْه بمئة ألفٍ. قال: وقال رسول الله ﷺ:"خيرُ الصَّداقِ أيسَرُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2742 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں فلاں عورت کے ہمراہ تیرا نکاح کر دوں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: کیا تمہیں یہ بات منظور ہے کہ میں فلاں شخص کے ساتھ تیرا نکاح کر دوں؟ اس نے بھی ہاں کر دی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کر دیا۔ اور ان کا کوئی حق مہر مقرر نہیں کیا تھا اور نہ ہی کوئی چیز اس کو دی۔ یہ شخص صلح حدیبیہ کے شرکاء میں سے تھا۔ اور شرکاء حدیبیہ کے ہر فرد کے لیے فتح خیبر سے ایک سہم مقرر کیا گیا تھا۔ جب اس شخص کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے ساتھ میرا نکاح کیا تھا لیکن میں نے نہ تو اس کے لیے کوئی حق مہر مقرر کیا تھا اور نہ ہی کوئی دوسری چیز اس کو دی تھی۔ میں تم سب کو گواہ بنا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر کا حصہ (جو بھی میرے حصے میں آئے) اس کا مہر کر دیا ہے۔ (پھر جب خیبر کا مالِ غنیمت تقسیم ہوا تو) اس خاتون نے وہ حصہ وصول کر کے فروخت کیا تو ایک لاکھ میں فروخت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین حق مہر وہ ہے جو تھوڑا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2777]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں