🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. الدُّعَاءُ لِمَنْ أَفَادَ جَارِيَةً أَوِ امَرْأَةً أَوِ دَابَّةً
جس کو لونڈی، عورت یا سواری ملی ہو اس کے لیے دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2792
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن عَجْلان، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أفادَ أحدُكم الجاريةَ أو المرأةَ أو الدابَّة، فليأخُذ بناصيَتِها وليَدْعُ بالبَرَكة، وليقل: اللهم إني أسألك خيرَها وخير ما جُبِلَتْ عليه، وأعوذ بك من شَرِّها وشَرِّ ما جُبِلَتْ عليه، وإن كان بعيرًا فليأخُذ بذِرْوةِ سَنامِه" (2) .
هذا حديث صحيح على ما ذَكَرناه من روايات الأئمة الثقات عن عمرو بن شُعيب، ولم يُخرجاه عن عمرو في الكتابَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2757 - صحيح
سیدنا عمر بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لونڈی، بیوی یا جانور لے کر آؤ تو اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر برکت کی دعا مانگا کرو اور یوں کہا کرو: (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا جُبِلَتْ عَلَیْہِ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا، وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَیْہِ) اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جو کچھ اس میں رکھا گیا ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور میں اس سے اور اس کی عادات سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور اگر اونٹ لاؤ تو اس کی کوہان کو پکڑ کر یہ دعا مانگا کرو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ثقہ ائمۂ حدیث نے عمرو بن شعیب کی روایات نقل کی ہیں۔ لیکن شیخین نے دونوں کتابوں میں ہی ان کی روایات نقل نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2792]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2793
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى، حدثنا حمّاد (1) بن سَلَمة، عن سعيد بن جُمْهان، عن سَفِينة: أنَّ عليًّا أضافَ رجلًا وصنع له طعامًا، فقال: لو دَعَونا رسولَ الله ﷺ فأكَلَ معنا، فدعَوَا رسولَ الله ﷺ، فجاء فرأى فِراشًا (2) قد ضُرِب في ناحيةِ البَيت فرجَعَ، فقالت فاطمةُ: ارجِعْ فقل له: ما رَجَعَكَ يا رسول الله؟ فذهب، فقال رسول الله ﷺ:"ليس لنبيٍّ أن يدخُلَ بيتًا مُزوَّقًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2758 - صحيح
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک مہمان آیا ہوا تھا۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے کھانا بنوایا۔ پھر کہنے لگے: اگر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دے دیں اور آپ بھی ہمارے ہمراہ کھانا کھائیں (تو کتنا اچھا ہو) چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کمرے کے ایک کونے میں (ایک خوبصورت) بچھونا بچھا ہوا تھا۔ (اس کو دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم حضؤر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس طرح واپس جانے کی وجہ دریافت کرو۔ انہوں نے جا کر پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: نبی ایسے گھر میں نہیں جایا کرتے جس میں نقش و نگار ہوتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2793]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں