🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ: (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ)
آیت «تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں» کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2827
أخبرنا أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو الأصبَغ عبد العزيز بن يحيى الحرّاني، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: إنَّ ابن عمر - واللهُ يغفرُ له - وَهِمَ، إنما كان هذا الحيُّ من الأنصار وهُم أهلُ وَثَن مع هذا الحي من اليهود وهم أهل كتاب، كانوا يَرَون لهم فضلًا عليهم، فكانُوا يَقتدُون بكثيرٍ من فِعْلهم، وكان مِن أمر أهل الكتاب أن لا يأتُوا النساءَ إلّا على حَرْفٍ واحدٍ، وذلك أستَرُ ما تكون المرأة، فكان هذا الحي من الأنصار قد أخذوا بذلك من فِعْلهم، وكان هذا الحي من قريش يَشْرَحُون النساء شَرْحًا منكرًا، ويتلذَّذون منهن مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ ومُستلْقِياتٍ، فلما قَدِمَ المهاجرون المدينة، تزوج رجل منهم امرأةً من الأنصار، فذهب يصنعُ بها ذلك، فأنكرتْه عليه، وقالت: إنما كنا نُؤتى على حَرْفٍ، فاصنَعْ ذلك وإلّا فاجتَنِبْني، حتى شَرِيَ (1) أمرُهما، فبلغ ذاك رسولَ الله ﷺ، فأنزل الله ﵎: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [البقرة: 223] ، أي: مُقبِلات ومُدبِرات ومُستلْقِيات، يعني بذلك موضعَ الولد (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا (2) على حديث محمد بن المُنكَدِر عن جابر في هذا الباب. هذا آخر كتاب النكاح، وأول كتاب الطلاق [كتاب الطلاق]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2791 - على شرط مسلم_x000D_ كِتَابُ الطَّلَاقِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بے شک ابن عمر —اللہ ان کی مغفرت فرمائے— سے اس معاملے میں وہم ہوا ہے، اصل قصہ یہ ہے کہ انصار کا یہ قبیلہ بت پرست تھا اور وہ ان یہودیوں کے پڑوس میں رہتے تھے جو اہلِ کتاب تھے، انصار ان کے (علمی) فضل کے قائل تھے اور ان کے بہت سے افعال کی پیروی کرتے تھے، اہلِ کتاب کا طریقہ یہ تھا کہ وہ عورتوں کے پاس صرف ایک پہلو سے (لیٹ کر) آتے تھے، جو عورت کے لیے سب سے زیادہ پردے والی حالت تھی، انصاریوں نے بھی ان سے یہی طریقہ سیکھ لیا تھا، دوسری طرف قریش کا یہ حال تھا کہ وہ عورتوں کو چت لٹا کر، آگے سے، پیچھے سے اور مختلف انداز سے ان سے لطف اندوز ہوتے تھے، جب مہاجرین مدینہ آئے تو ان میں سے ایک شخص نے انصاری خاتون سے نکاح کیا اور اس کے ساتھ وہی طریقہ اختیار کرنا چاہا تو اس خاتون نے سختی سے انکار کر دیا اور کہا: ہم تو ایک ہی مخصوص پہلو سے (قربت کے) عادی رہے ہیں، یا تو آپ ویسا ہی کریں ورنہ مجھ سے دور رہیں، یہاں تک کہ ان کا معاملہ سنگین ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] یعنی تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، پس تم اپنی کھیتی میں جس طرح (جس رخ سے) چاہو آؤ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ خواہ آگے سے ہو، پیچھے سے ہو یا چت لٹا کر، بشرطیکہ اس سے مراد مقامِ پیدائش (شرمگاہ) ہو
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اس باب میں جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث پر اتفاق کیا ہے، یہ کتاب النکاح کا اختتام اور کتاب الطلاق کا آغاز ہے [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2827]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بسماعه في الطريق الآتية برقم (3142).» [ترقيم الرساله 2827] [ترقيم الشركة 2807] [ترقيم العلميه 2791]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں