المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
50. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ: (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ)
آیت «تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں» کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2827
أخبرنا أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو الأصبَغ عبد العزيز بن يحيى الحرّاني، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: إنَّ ابن عمر - واللهُ يغفرُ له - وَهِمَ، إنما كان هذا الحيُّ من الأنصار وهُم أهلُ وَثَن مع هذا الحي من اليهود وهم أهل كتاب، كانوا يَرَون لهم فضلًا عليهم، فكانُوا يَقتدُون بكثيرٍ من فِعْلهم، وكان مِن أمر أهل الكتاب أن لا يأتُوا النساءَ إلّا على حَرْفٍ واحدٍ، وذلك أستَرُ ما تكون المرأة، فكان هذا الحي من الأنصار قد أخذوا بذلك من فِعْلهم، وكان هذا الحي من قريش يَشْرَحُون النساء شَرْحًا منكرًا، ويتلذَّذون منهن مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ ومُستلْقِياتٍ، فلما قَدِمَ المهاجرون المدينة، تزوج رجل منهم امرأةً من الأنصار، فذهب يصنعُ بها ذلك، فأنكرتْه عليه، وقالت: إنما كنا نُؤتى على حَرْفٍ، فاصنَعْ ذلك وإلّا فاجتَنِبْني، حتى شَرِيَ (1) أمرُهما، فبلغ ذاك رسولَ الله ﷺ، فأنزل الله ﵎: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [البقرة: 223] ، أي: مُقبِلات ومُدبِرات ومُستلْقِيات، يعني بذلك موضعَ الولد (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا (2) على حديث محمد بن المُنكَدِر عن جابر في هذا الباب. هذا آخر كتاب النكاح، وأول كتاب الطلاق [كتاب الطلاق] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2791 - على شرط مسلم_x000D_ كِتَابُ الطَّلَاقِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا (2) على حديث محمد بن المُنكَدِر عن جابر في هذا الباب. هذا آخر كتاب النكاح، وأول كتاب الطلاق [كتاب الطلاق] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2791 - على شرط مسلم_x000D_ كِتَابُ الطَّلَاقِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا وہم معاف فرمائے، انصاریوں کا یہ قبیلہ بت پرست تھا اور ان کے قریب اہل کتاب یہودیوں کا قبیلہ تھا، وہ لوگ اپنے آپ کو ان انصاریوں سے افضل سمجھتے تھے اور انصاری لوگ بہت سارے امور میں ان یہودیوں کی پیروی کیا کرتے تھے۔ اور اہلِ کتاب کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ اپنی بیویوں سے صرف ایک ہی انداز میں ہمبستری کیا کرتے تھے اور وہ انداز ایسا تھا جس میں عورت کے پردہ کا انتہائی خیال رکھا جاتا تھا۔ تو انصاریوں کے اس قبیلے نے بھی ان کی اس عادت کو اپنا رکھا تھا جبکہ قریش کے اس قبیلے میں یہ عادت تھی کہ ان کے مرد عورتوں کو ناپسندیدہ طریقے سے بے پردہ کر لیا کرتے تھے۔ اور ان کو کبھی سیدھا لٹا کر، کبھی الٹا لٹا کر، کبھی اگلی جانب سے اور کبھی پچھلی جانب سے شرمگاہ سے لذت حاصل کرتے تھے۔ جب مکہ کے لوگ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ان میں سے ایک مرد کی ایک انصاری خاتون سے شادی ہو گئی، اس کے شوہر نے اپنے اسی طریقہ سے عورت سے مزہ لینا چاہا، تو اس عورت نے منع کر دیا اور بولی: ہمارے قبیلے میں عورتوں کے ساتھ صرف ایک ہی طریقے سے ہمبستری کی جاتی ہے۔ اس لیے ہمارے طریقہ کے مطابق ہمبستری کرنی ہے تو کرو ورنہ مجھے چھوڑ دو۔ یہاں تک کہ میں اپنے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں۔ یہ بات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْفَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ) (البقرۃ: 223) ” تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو “۔ (یعنی ان کے آگے سے یا پیچھے سے یا لٹا کر لیکن بہرحال وطی اس مقام سے کرو جہاں سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، جبکہ شیخین نے اس باب میں محمد بن المنکدر کے حوالے سے جابر کی روایت نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2827]