🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. قِصَّةُ هِجْرَةِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ
سیدہ زینب بنت رسول اللہ ﷺ کی مکہ سے ہجرت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2848
أخبرني أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني ابن الهادِ، حدثني عُمر بن عبد الله بن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عائشة زوج النبي ﷺ: أنَّ رسول الله ﷺ لما قدم المدينةَ خرجت ابنتُه زينبُ من مكة مع كِنانةَ - أو ابن كنانة - فخرجوا في أَثَرها، فأدركها هَبّار بن الأسود، فلم يَزَلْ يَطعُن بعيرَها برُمْحِه حتى صَرَعَها، والقَتْ ما في بطنها، وأُهريقتْ دمًا، فاشتَجَر فيها بنو هاشم وبنو أُميّة، فقالت بنو أُمية: نحن أحقُّ بها، وكانت تحت ابن عمّهم أبي العاص، فكانت عند هند بنت عُتْبة بن رَبيعة، فكانت تقول لها هند: هذا بسبب أبيك، فقال رسول الله ﷺ لزيد بن حارثة:"ألا تنطلقُ تَجيئُني بزينبَ؟" قال: بلى يا رسول الله، قال:"فخُذْ خاتمي" فأعطاهُ إياهُ، فانطلق زيد وترك بعيرَه، فلم يزَلْ يَتلطّف حتى لقيَ راعيًا، فقال: لمن تَرعَى؟ فقال: لأبي العاص، قال: فلِمن هذه الأغنامُ؟ قال: لزينب بنت محمد، فسارَ معه شيئًا، ثم قال له: هل لك أن أُعطيَك شيئًا تُعطِيه إياها ولا تَذكرُه لأحدٍ؟ قال: نعم، فأعطاهُ الخاتم، فانطلق الراعي فأدخل غنمَه، وأعطاها الخاتمَ، فعرفَتْه، فقالت: من أعطاك هذا الخاتم؟ قال: رجلٌ، قالت: فأين تركتَه؟ قال: بمكانِ كذا وكذا، قال: فسكَتَت، حتى إذا كان الليلُ خرجت إليه، فلما جاءته، قال لها: اركَبي، بين يديه على بعيره، قالت: لا، ولكن اركَبْ أنت بين يديّ، فركب وركبَتْ وراءَه، حتى أتَت. فكان رسولُ الله ﷺ يقول:"هي أفضلُ بناتي؛ أُصيبَت فيَّ". فبلغ ذلك عليَّ بن الحسين، فانطلق إلى عُرْوة، فقال: ما حديثٌ بَلَغَني عنك تُحدّثُه تَنتقِصُ فيه حقَّ فاطمة؟ فقال عُرْوة: والله ما أُحب أنَّ لي ما بين المشرق والمغرب وإني أَنتقِصُ فاطمةَ حقًّا هو لها، وأما بعدُ فلَكَ أن لا أُحدِّثَ به أبدًا. قال عُرْوة: وإنما كان هذا قبل نزول الآية: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ [الأحزاب: 5] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کنانہ یا ابن کنانہ کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئیں، مکہ والوں نے ان کا پیچھا کیا اور ہبار بن اسود نے انہیں پا لیا، وہ مسلسل اپنے نیزے سے ان کی اونٹنی کو کچوکے لگاتا رہا یہاں تک کہ ان کو گرا دیا، جس سے ان کا حمل ضائع ہو گیا اور خون بہنے لگا، اس معاملے میں بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان جھگڑا ہوا، بنو امیہ نے کہا: ہم ان کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ وہ ان کے چچا زاد ابوالعاص کے نکاح میں تھیں، وہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ کے پاس رہیں اور ہند ان سے کہتی تھی کہ یہ سب تمہارے باپ کی وجہ سے ہوا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ سے فرمایا: کیا تم جا کر زینب کو میرے پاس نہیں لاؤ گے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری انگوٹھی لے جاؤ، چنانچہ زید روانہ ہوئے اور اپنی اونٹنی چھوڑ دی، وہ بڑی حکمت سے کام لیتے رہے یہاں تک کہ ایک چرواہے سے ملے، پوچھا: کس کے لیے چراتے ہو؟ اس نے کہا: ابوالعاص کے لیے، پوچھا: یہ بکریاں کس کی ہیں؟ اس نے کہا: زینب بنت محمد کی، وہ اس کے ساتھ کچھ دور چلے پھر کہا: کیا تم یہ انگوٹھی ان کو دے دو گے اور کسی سے ذکر نہیں کرو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، چرواہا گیا اور انگوٹھی دی، انہوں نے پہچان لی اور پوچھا: یہ کس نے دی؟ اس نے کہا: ایک شخص نے، پوچھا: کہاں چھوڑا؟ اس نے جگہ بتائی، وہ خاموش رہیں یہاں تک کہ رات ہوئی تو ان کے پاس نکل گئیں، جب پہنچیں تو زید نے کہا: سوار ہو جائیے، انہوں نے کہا: نہیں آپ آگے بیٹھیں، چنانچہ وہ آگے بیٹھے اور وہ پیچھے سوار ہوئیں اور مدینہ پہنچ گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: وہ میری بہترین بیٹیوں میں سے ہے جسے میری خاطر تکلیف پہنچائی گئی، جب یہ بات علی بن حسین تک پہنچی تو وہ عروہ کے پاس گئے اور کہا: یہ کیا حدیث ہے جو آپ سے مجھے پہنچی ہے جس میں آپ فاطمہ کے حق میں کمی کر رہے ہیں؟ عروہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے مشرق و مغرب کی دولت بھی ملے تو میں فاطمہ کے حق میں کمی نہ کروں گا، لیکن آئندہ میں یہ حدیث کبھی بیان نہیں کروں گا، عروہ نے کہا کہ یہ واقعہ آیت ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ [سورة الأحزاب: 5] کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2848]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل يحيى بن أيوب - وهو الغافقي المصري, ففيه كلام كما قال الذهبي، واستنكره عند الموضع الآتي برقم (7007)، وقد انفرد به، وصحَّحه الحافظ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (2009). ابن الهاد: هو يزيد بن عبد الله ابن أسامة بن الهاد، مشهور بالنسبة لجد أبيه.» [ترقيم الرساله 2848] [ترقيم الشركة 2828]

الحكم على الحديث: إسناده حسن إن شاء الله من أجل يحيى بن أيوب - وهو الغافقي المصري, ففيه كلام كما قال الذهبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں