المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. مَسْأَلَةُ اللِّعَانِ وَحِكَايَةُ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ
لعان کا مسئلہ اور ہلال بن امیہ کا واقعہ
حدیث نمبر: 2849
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا أحمد بن الوليد الفحّام، حدثنا الحسين بن محمد المَرْوَرُّوذِي، حدثنا جرير بن حازم، عن أيوب، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: لما قَذَفَ هلالُ بن أُميّة امرأتَه قيل له: والله ليجلدنَّكَ رسول الله ﷺ ثمانين جلدةً، قال: الله أعدَلُ من ذلك أن يضربَني ثمانين ضربةً، وقد عَلِم أني رأيتُ حتى استيقَنْتُ، وسمعتُ حتى استثْبَتُّ، لا والله لا يضربُني أبدًا. فنزلت آية المُلاعَنة، فدعا بهما رسولُ الله ﷺ حين نزلتِ الآيةُ، فقال:"الله يعلمُ أنَّ أحدَكما كاذِبٌ، فهل منكما تائبٌ"، فقال هلالٌ: والله إني لَصادِقٌ، فقال:"احلِفْ بالله الذي لا إله إلَّا هو إني لَصادقٌ، تقول ذلك أربعَ مرات، فإن كنتُ كاذبًا فعليَّ لعنةُ الله"، فقال رسول الله ﷺ:"قِفُوه عند الخامسة، فإنها مُوجِبةٌ"، فحلفتُ، ثم قالت أربعًا: والله الذي لا إله إلا هو إنه لمن الكاذِبِين، فإن كان صادقًا فعليها غضبُ الله، فقال رسول الله ﷺ:"قِفُوها عند الخامسة، فإنها مُوجِبةٌ"، فردَّدَتْ وهَمَّتْ بالاعترافِ، ثم قالت: لا أفضحُ قومي، فقال رسول الله ﷺ:"إن جاءت به أكحَلَ أَدعَجَ سابِغَ الأَلْيَتَين، ألَفَّ الفخذين، خَدَلَّجَ الساقَين، فهو للذي رُميَتْ به، وإن جاءت به أصفَرَ قَضِيفًا سَبِطًا، فهو لهلالِ بن أُمية" فجاءت به على الصِّفة البَغيّ. قال أيوب: وقال محمد بن سيرين: كان الرجلُ الذي قذَفَها به هلالُ بن أمية شَريكَ بن سَحْماء، وكان أخا البراء بن مالك أخي أنس بن مالك لأُمّه، وكانت أمُّه سوداءَ، وكان شَريك يأوي إلى منزل هلالٍ ويكون عنده (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجه بهذه السِّياقة، إنما أخرج حديث هشام بن حسّان، عن عِكْرمة مختصرًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2813 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجه بهذه السِّياقة، إنما أخرج حديث هشام بن حسّان، عن عِكْرمة مختصرًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2813 - على شرط البخاري
ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جب ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی تو ان سے کہا گیا: خدا کی قسم! رسول اللہ تجھے ضرور 80 کوڑوں کی سزا دیں گے۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ عادل ہے کہ وہ مجھے 80 کوڑے ماریں حالانکہ آپ یہ بات جانتے بھی ہیں کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر اس بات پر یقین کیا ہے۔ خدا کی قسم! آپ مجھے کبھی سزا نہیں دیں گے۔ تب ” لعان “ کے متعلق آیات نازل ہوئیں۔ جب آیت نازل ہوئی تو آپ نے دونوں (میاں بیوی) کو بلایا اور فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں کوئی توبہ کرے گا؟ ہلال بولے: خدا کی قسم میں سچا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم اٹھاؤ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ میں سچا ہوں۔ چار مرتبہ یہ قسم کھاؤ اور اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو (اس نے چار قسمیں اٹھائیں اور جب پانچویں قسم کھانے لگا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانچویں (قسم کھانے) سے روکو کیونکہ وہ واجب کرنے والی ہے۔ پھر اس خاتون نے چار قسمیں کھائیں کہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ یہ شخص جھوٹا ہے اور اگر یہ سچا ہے تو اس پر اللہ کا غضب ہو (جب اس نے چار قسمیں کھا لیں اور پانچویں کھانے لگی تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو روکو کیونکہ (پانچویں قسم) واجب کرنے والی ہے۔ پھر وہ کچھ متردد ہوئی اور اس نے اعتراف کرنے کا ارادہ کر لیا تو کہنے لگی: میری قوم مجھے رسوا نہ کرے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کے ہاں ایسا بچہ پیدا ہوا جس کی آنکھوں کو سرمہ لگا ہوا ہو، آنکھیں بڑی بڑی اور بہت سیاہ ہوں، اس کے چوتر بڑے ہوں، رانوں پر گوشت بھرا ہوا ہو اور تو وہ اسی کا ہو گا جس کی اس پر تہمت لگائی گئی ہے اور اگر ایسا بچہ پیدا ہوا جو زرد رنگ کا، کمزور اور لاغر ہو، تو وہ ہلال بن امیہ کا ہو گا۔ تو جب پیدا ہوا تو وہ زناکاری کی علامت تھا۔ ٭٭ ایوب فرماتے ہیں: محمد بن سیرین کا کہنا ہے: جس شخص نے ہلال بن امیہ کو یہ بات بتائی تھی وہ شریک بن سحماء ہے اور وہ انس بن مالک کے اخیافی (ماں شریک) بھائی، براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں اور ان کی والدہ کا نام سوداء ہے اور شریک عموماً ہلال کے ہاں آ کر ٹھہرا کرتے تھے تو وہ ان کے پاس موجود ہوتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری اور امام مسلم نے ہشام بن حسان کے حوالے سے عکرمہ کی مختصر حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2849]
حدیث نمبر: 2850
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن الهَادِ، عن عبد الله بن يونس، أنه سمع المقبُري يحدِّث قال: حدثني أبو هريرة، أنه سمع النبي ﷺ يقول لما نزلت آية المُلَاعنة، قال النبي ﷺ:"أيُّما امرأةٍ أدخَلَت على قومٍ مَن ليس منهم، فليست مِن الله في شيءٍ، ولن يُدخلَها اللهُ جنتَه، وأيُّما رجلٍ جَحَد ولدَه وهو ينظُر إليه، احتجَبَ اللهُ منه وفَضَحَه على رؤوس الخلائق مِن الأولين والآخِرين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2814 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2814 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب ” لعان “ والی آیت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت ایسی قوم کے پاس جائے جن کی برادری سے یہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ کبھی رورعایت کی حقدار نہیں ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اس کو اپنی جنت میں داخل کرے گا اور جو آدمی اپنے بچے کا انکار کرے اور وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہو، اللہ تعالیٰ اس کو اپنا دیدار نہیں کرائے گا اور وہ اوّل و آخر تمام لوگوں کے سامنے اس کو رسوا کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2850]