المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. الْعَمَلُ الَّذِي يُدْخِلُ الْجَنَّةَ
وہ عمل جو جنت میں داخل کرنے والا ہے
حدیث نمبر: 2897
حدثني محمد بن صالح بن هانئ ومحمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل، قالا: حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكين، حدثنا عيسى بن عبد الرحمن السُّلَمي، حدثنا طلحة اليامِيّ، عن عبد الرحمن بن عَوسَجة، عن البراء بن عازب، قال: جاء أعرابيٌّ إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، علِّمني شيئًا يُدخِلُني الجنة، فقال:"لَئِن أقصرْتَ الخُطبةَ لقد أعرضْتَ المسألةَ: أعتقِ النَّسَمةَ وفُكَّ الرقَبَة" قال: أوَليسا واحدًا؟ قال:"فإنَّ عِتْقَ النسَمةِ أن تَفَرَّدَ بعِتْقها، وفَكَّ الرقَبةِ أن تُعينَ في ثمنِها، والمِنْحةُ المَوكُوفة، والفَيءُ على ذي الرَّحِمِ الظالِم، فإن لم تُطِقْ ذلك، فأطعِمِ الجائعَ، واسقِ الظَّمآن، وأْمُر بالمعروف وانْهَ عن المُنكر، فإن لم تُطِقْ ذلك، فكُفَّ لِسانَك إلّا مِن خَيرٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2861 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2861 - صحيح
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل سکھائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ تم نے کلام مختصر کیا ہے لیکن سوال بہت بڑا کیا ہے: «أعتقِ النَّسَمةَ وفُكَّ الرقَبَة» ”کسی جان کو آزاد کرو اور گردن چھڑاؤ“۔“ اس نے عرض کی: کیا یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! جان آزاد کرنے «عِتْقَ النسَمةِ» کا مطلب یہ ہے کہ تم اکیلے اسے آزاد کرنے کی ذمہ داری اٹھاؤ، جبکہ گردن چھڑانے «فَكَّ الرقَبَةِ» کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی قیمت کی ادائیگی میں تعاون کرو، نیز دودھ والا جانور نفع کے لیے عاریتہً دینا، اور ایسے ظالم قریبی رشتہ دار پر احسان کرنا (جو صلہ رحمی نہ کرتا ہو) بھی اس میں شامل ہے، پھر اگر تم اس کی طاقت نہ رکھو تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ، پیاسے کو پانی پلاؤ، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اور اگر تم اس کی بھی طاقت نہ رکھو تو اپنی زبان کو سوائے خیر کے ہر بات سے روکے رکھو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 2897]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، طلحة الياميّ: هو ابن مُصرِّف.» [ترقيم الرساله 2897] [ترقيم الشركة 2879] [ترقيم العلميه 2861]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح