المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
126. قِصَّةُ لُوطٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَابْتِلَاءِ قَوْمِهِ فِي الْعَذَابِ
حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم پر آنے والے عذاب کا واقعہ
حدیث نمبر: 3357
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن حُصَين، عن سعيد بن جُبير قال: قال ابن عبَّاس: لما جاءت رسلُ الله لوطًا ظنَّ أنهم ضِيفانٌ لَقُوه، فأدناهم حتى أقعَدَهم قريبًا، وجاء ببناتِه وهنَّ ثلاثٌ فأقعدَهنَّ بين ضِيفانه وبين قومه، فجاء قومُه يُهرَعُونَ إليه، فلما رآهم قال: ﴿هَؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي﴾ قالوا: ﴿مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ (79) قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾، فالْتفَتَ إليه جبريل ﵇، فقال: ﴿إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ﴾ قال: فطَمَسَ أعينَهم، فرجعوا وراءَهم يرَكَب بعضُهم بعضًا حتى خرجوا إلى الذين بالباب، فقالوا: جئناكم من عند أسحرِ الناس، قد طَمَسَ أبصارَنا، فانطلقوا يَركَبُ بعضُهم بعضًا، حتى دخلوا القريةَ، فرُفِعَت في بعض الليل حتى كانت بين السماءِ والأرض، حتى إنهم لَيَسمعون أصواتَ الطير في جوِّ السماء، ثم قُلِبَت، فخَرَّت الأَفْكةُ (1) عليهم، فمن أدركته الأَفكةُ قتلته، ومن خرج أتبَعَته حيث كان حَجَرًا فقتلته، قال: فارتَحلَ ببناته وهنَّ ثلاث حتى إذا بلغ مكان كذا وكذا من الشام، ماتت ابنتُه الكبرى، فخرجت عندها عَينٌ يقال لها: الورية، ثم انطلق حيث شاء الله أن يَبلُغَ فماتت الصغرى، فخرجت عندها عينٌ يقال لها: الذُّغَريّة (2) ، فما بقي منهن إلَّا الوسطى (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولعلَّ متوهِّمًا يتوهَّم أنَّ هذا وأمثاله في الموقوفات، وليس كذلك، فإنَّ الصحابي إذا فسَّر التلاوةَ فهو مُسنِدٌ عند الشيخين (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3317 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولعلَّ متوهِّمًا يتوهَّم أنَّ هذا وأمثاله في الموقوفات، وليس كذلك، فإنَّ الصحابي إذا فسَّر التلاوةَ فهو مُسنِدٌ عند الشيخين (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3317 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے سیدنا لوط علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے سمجھا کہ وہ عام مہمان ہیں جو ان سے ملے ہیں، پس وہ انہیں اپنے قریب لے آئے یہاں تک کہ انہیں بٹھا دیا، اور اپنی بیٹیاں لے کر آئے جو کہ تین تھیں اور انہیں اپنے مہمانوں اور اپنی قوم کے درمیان (حفاظت کے طور پر) بٹھا دیا، اتنے میں ان کی قوم کے لوگ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے، جب سیدنا لوط علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ﴿هَؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي﴾ [سورة هود: 78] ”یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں، پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو“، انہوں نے کہا: ﴿مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ (79) قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ [سورة هود: 79-80] ”تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق (دلچسپی) نہیں ہے اور تم خوب جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں، لوط علیہ السلام نے کہا: کاش میرے پاس تمہارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے پاتا“، تب جبرائیل علیہ السلام ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ﴿إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ﴾ [سورة هود: 81] ”بیشک ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے“، راوی کہتے ہیں: پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان کی آنکھوں کو مٹا (اندھا کر) دیا، وہ پیچھے کی طرف اس طرح لوٹے کہ ایک دوسرے پر چڑھ رہے تھے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس پہنچے جو دروازے پر تھے اور کہنے لگے: ہم تمہارے پاس سے آئے ہیں جہاں سب سے بڑا جادوگر ہے، اس نے ہماری بصارت چھین لی ہے، چنانچہ وہ ایک دوسرے پر گرتے پڑتے بھاگے یہاں تک کہ بستی میں داخل ہو گئے، پھر رات کے کسی حصے میں اس بستی کو اوپر اٹھایا گیا یہاں تک کہ وہ زمین و آسمان کے درمیان پہنچ گئی اور بستی والے فضا میں پرندوں کی آوازیں سننے لگے، پھر اسے الٹ دیا گیا اور وہ بستی ان پر آ گری، پس جو اس کی زد میں آیا وہ ہلاک ہو گیا اور جو وہاں سے نکل بھاگا پتھروں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے مار ڈالا، راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا لوط علیہ السلام اپنی تینوں بیٹیوں کو لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب شام کے ایک مخصوص مقام پر پہنچے تو ان کی بڑی بیٹی وفات پا گئی، وہاں ایک چشمہ جاری ہوا جسے ”الوریہ“ کہا جاتا ہے، پھر وہ آگے بڑھے جہاں تک اللہ نے چاہا تو ان کی چھوٹی بیٹی بھی وفات پا گئی، وہاں بھی ایک چشمہ جاری ہوا جسے ”الذغریہ“ کہا جاتا ہے، پس ان میں سے صرف درمیانی بیٹی باقی بچی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور شاید کسی کے وہم میں یہ بات آئے کہ یہ اور اس جیسی دیگر روایات موقوفات (صحابہ کے اقوال) میں سے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جب صحابی قرآن کی تلاوت کی تفسیر بیان کرے تو وہ شیخین کے نزدیک مسند (مرفوع) کے حکم میں ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3357]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور شاید کسی کے وہم میں یہ بات آئے کہ یہ اور اس جیسی دیگر روایات موقوفات (صحابہ کے اقوال) میں سے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جب صحابی قرآن کی تلاوت کی تفسیر بیان کرے تو وہ شیخین کے نزدیک مسند (مرفوع) کے حکم میں ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3357]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو موقوف، والغالب أنه مما تُلقِّف في أهل الكتاب. حصين: هو ابن عبد الرحمن السلمي.» [ترقيم الرساله 3357] [ترقيم الشركة 3337] [ترقيم العلميه 3317]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3358
أخبرنا محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا الفضل بن دُكَين، حدثنا محمد بن مسلم الطائفي، حدثنا عمرو بن دينار عن جابر بن عبد الله قال: رأى ناسٌ نارًا في المقبرة فأتَوْها، فإذا رسول الله ﷺ في القبر، وإذا هو يقول:"ناوِلُوني صاحبَكم"، وإذا هو الرجلُ الأوَّاه الذي يَرفَعُ صوتَه بالذِّكْر (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [12 - سورة يوسف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3318 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [12 - سورة يوسف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3318 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے قبرستان میں آگ دیکھی تو وہ وہاں پہنچے، دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے: ”اپنے ساتھی کو میرے حوالے کرو (یعنی قبر میں اتارو)“، اور یہ وہ شخص تھا جو «اوّاه» تھا (یعنی اللہ کے ذکر کے وقت کثرتِ گریہ وزاری کرنے والا اور آواز بلند کرنے والا)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3358]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3358]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن مسلم الطائفي.» [ترقيم الرساله 3358] [ترقيم الشركة 3338] [ترقيم العلميه 3318]
الحكم على الحديث: إسناده حسن