المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
132. تَفْسِيرُ سُورَةِ الرَّعْدِ
سورۂ رعد کی تفسیر
حدیث نمبر: 3371
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وهشام بن علي السَّدُوسي، قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا صَدَقة بن موسى، عن محمد بن واسع، عن سُمَير، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ ربَّكم تعالى يقول: لو أنَّ عبادي أَطاعوني لَأسقيتُهم المطرَ بالليل وأَطلعتُ عليهم الشمسَ بالنهار، ولم أُسمِعْهم صوتَ الرَّعْد" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3331 - بل صدقة بن موسى واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3331 - بل صدقة بن موسى واه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تمہارا رب تعالیٰ فرماتا ہے: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں انہیں رات کے وقت بارش پلاؤں اور دن کے وقت ان پر سورج طلوع کروں، اور میں انہیں بادل گرجنے کی آواز نہ سناؤں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3371]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3371]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسى، ووهّاه الذهبي في "تلخيصه". سمير: هو ابن نهار، ويقال في اسمه: شُتير، وقد تفرَّد بالرواية عنه محمد بن واسع.» [ترقيم الرساله 3371] [ترقيم الشركة 3351] [ترقيم العلميه 3331]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسى
حدیث نمبر: 3372
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سليمان التَّيْمي، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [الرعد: 39] : من أحد الكتابَينِ، هما كتابان يَمحُو اللهُ ما يشاء من أحدِهما ويُثبِت، ﴿وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ أي: جُمْلةُ الكتاب (2) . قد احتجَّ مسلمٌ بحمَّاد واحتجَّ البخاري بعِكْرمة، وهو غريب صحيح من حديث سليمان التيمي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3332 - صحيح غريب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3332 - صحيح غريب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [سورة الرعد: 39] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(یہ مٹانا) دو کتابوں میں سے ایک سے ہوتا ہے، یہ دو کتابیں ہیں، اللہ ان میں سے ایک سے جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے، اور ﴿وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔“
امام مسلم نے حماد سے اور امام بخاری نے عکرمہ سے دلیل پکڑی ہے، اور یہ سلیمان تیمی کی حدیث سے غریب صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3372]
امام مسلم نے حماد سے اور امام بخاری نے عکرمہ سے دلیل پکڑی ہے، اور یہ سلیمان تیمی کی حدیث سے غریب صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3372]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان التيمي» [ترقيم الرساله 3372] [ترقيم الشركة 3352] [ترقيم العلميه 3332]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه