🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
132. تفسير سورة الرعد
سورۂ رعد کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3372
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سليمان التَّيْمي، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [الرعد: 39] : من أحد الكتابَينِ، هما كتابان يَمحُو اللهُ ما يشاء من أحدِهما ويُثبِت، ﴿وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ أي: جُمْلةُ الكتاب (2) . قد احتجَّ مسلمٌ بحمَّاد واحتجَّ البخاري بعِكْرمة، وهو غريب صحيح من حديث سليمان التيمي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3332 - صحيح غريب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: یَمْحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآئُ (الرعد: 39) اللہ جو چاہے مٹاتا ہے۔ کے متعلق فرماتے ہیں: یہ دو کتابوں میں سے ایک کی بات ہے۔ وہ دو کتابیں ہیں، ان میں سے ایک کتاب میں جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے یعنی پوری کتاب ہے۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کی روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حماد کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث سلیمان التیمی کی سند کے ہمراہ غریب صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3372]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3372 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان التيمي - وهو ابن طرخان - لم يسمع من عكرمة شيئًا. وأخرجه البيهقي في "القضاء والقدر" (255) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے؛ سلیمان التیمی (ابن طرخان) نے عکرمہ سے کچھ نہیں سنا۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "القضاء والقدر" (255) میں ابوعبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 13/ 167 من طريقين عن حماد بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" (13/ 167) میں حماد بن سلمہ سے دو طریقوں سے اسی طرح روایت کیا ہے۔