🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

159. عِلْمُ الْأَنْبِيَاءِ فِي جَنْبِ عِلْمِ اللَّهِ كَقَطْرَةِ مَاءٍ مِنَ الْبَحْرِ
اللہ کے علم کے مقابلے میں انبیاء کا علم سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3434
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا أبو عِمران موسى بن هارون بن عبد الله الحافظ، حدثني أَبي، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا ابن عُيَينة، عن عَمْرو بن دينار، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: حدثني أُبيٌّ، أنَّ النبي ﷺ قال:"لمَّا لَقِيَ موسى الخَضِرَ ﵇ جاء طيرٌ فأَلقى مِنقارَه في الماء، فقال الخضرُ لموسى: تَدبَّرْ ما يقولُ هذا الطائرُ، قال: وما يقول؟ قال: يقول: ما عِلمُكَ وعِلمُ موسى في عِلْم الله إلّا كما أَخَذَ مِنقارِي من الماء" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3394 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات خضر علیہ السلام سے ہوئی تو ایک پرندہ آیا اور اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈالی۔ خضر علیہ السلام نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: غور کرو کہ یہ پرندہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: یہ کیا کہہ رہا ہے؟ خضر علیہ السلام نے فرمایا: یہ پرندہ کہہ رہا ہے کہ تمہارا علم اور موسیٰ کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں بس اتنا ہی ہے جتنا میری چونچ نے اس پانی میں سے لیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3434]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3434] [ترقيم الشركة 3414] [ترقيم العلميه 3394]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3435
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان عن مِسعَر، عن عبد الملك بن مَيسَرة، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا﴾ [الكهف: 82] ، قال: حُفِظا بصلاحِ أبيهما، وما ذَكَرَ عنهما صلاحًا (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3395 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا﴾ اور ان دونوں کا باپ ایک نیک انسان تھا۔ [سورة الكهف: 82] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ان دونوں (یتیم بچوں) کی ان کے باپ کی نیکی کی وجہ سے حفاظت کی گئی، اور ان دونوں کی اپنی کسی نیکی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3435]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو في "مسند الحميدي" برقم (372).» [ترقيم الرساله 3435] [ترقيم الشركة 3415] [ترقيم العلميه 3395]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں