🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

209. أَحْوَالُ أَنْوَارِ الْمُؤْمِنِينَ وَظُلُمَاتِ الْكَافِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن مومنوں کے نور اور کافروں کی تاریکیوں کے حالات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3552
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، أخبرنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا أبو جعفر الرَّازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب في قول الله ﷿: ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [النور: 35] ، فقرأ الآيةَ ثم قال: ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [النور: 39] ، قال: وكذلك الكافرُ يجيءُ يومَ القيامة وهو يَحسَبُ أنَّ له عند الله خيرًا، فلا يَجِدُه ويُدخِلُه الله النارَ، قال: وضَرَبَ مثلًا آخر للكافر فقال: ﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾ [النور: 40] ، قال: فهو يَنقُله في خمسٍ من الظُّلَم: فكلامُه ظُلْمة، وعملُه ظُلْمة، ومَدخَلُه ظُلْمة، ومَخرَجُه ظُلْمة، ومصيرُه إلى الظُّلُمات إلى النار يومَ القيامة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3510 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة النور: 35] کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [سورة النور: 39] اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی طرح ہیں جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا اور وہاں اللہ کو پاتا ہے، پس وہ اسے اس کا پورا پورا حساب دے دیتا ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے، انہوں نے کہا: اسی طرح کافر قیامت کے دن آئے گا اور وہ یہ گمان کر رہا ہوگا کہ اللہ کے پاس اس کے لیے کچھ بھلائی ہے، مگر وہ اسے نہیں پائے گا اور اللہ اسے آگ میں داخل کر دے گا، پھر انہوں نے کافر کے لیے ایک اور مثال دی اور فرمایا: ﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾ [سورة النور: 40] یا ان کی مثال گہرے سمندر کی تاریکیوں جیسی ہے جس پر لہر در لہر چھائی ہوئی ہو اور اس کے اوپر بادل ہوں، یہ تہ در تہ تاریکیاں ہیں، جب وہ اپنا ہاتھ نکالے تو اسے دیکھ نہ پائے، اور جسے اللہ ہی نور نہ دے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے، انہوں نے کہا: پس وہ پانچ قسم کے اندھیروں میں پھرتا رہتا ہے: اس کا کلام اندھیرا ہے، اس کا عمل اندھیرا ہے، اس کا داخلہ اندھیرا ہے، اس کا خروج اندھیرا ہے اور اس کا انجام قیامت کے دن جہنم کی تاریکیاں ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3552]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل أبي جعفر الرازي: وهو عيسى بن أبي عيسى.» [ترقيم الرساله 3552] [ترقيم الشركة 3531] [ترقيم العلميه 3510]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3553
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، حدَّثني سُلَيم بن عامر قال: خَرَجْنا على جنازةٍ في باب دمشق معنا أبو أُمامة الباهلي، فلما صلَّى على الجنازة وأَخذوا في دفنها قال أبو أُمامة: يا أيها الناس، إنكم قد أصبحتُم وأمسيتُم في منزلٍ تقتسمون فيه الحسناتِ والسيِّئاتِ، وتُوشِكُون أن تَطعنَوا منه إلى المنزلِ الآخَر، وهو هذا - يشير إلى القَبْر - بيتُ الوَحْدة وبيتُ الظُّلْمة، وبيتُ الدُّود وبيت الضِّيق إلَّا ما وَسَّعَ الله، ثم تنتقلون منه إلى مواطنِ يوم القيامة، فإنكم لَفِي بعضِ تلك المواطنِ حتى يَغشَى الناسَ أمرٌ من أمرِ الله، فتَبيَضُّ وجوهٌ وتسوَدُّ وجوهٌ، ثم تنتقلون منه إلى منزلٍ آخرَ فيغشى الناسَ ظلمةٌ شديدة، ثم يُقسَمُ النُّورُ، فيُعطَى المؤمنُ نورًا ويُترك الكافرُ والمنافقُ فلا يُعطَيانِ شيئًا، وهو المَثَلُ الذي ضرب اللهُ في كتابه: ﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾، ولا يستضيءُ الكافرُ والمنافقُ بنور المؤمن كما لا يستضيءُ الأعمى ببَصَرِ البصير، يقول المنافق للذين آمنوا: ﴿انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا﴾ [الحديد: 13] ، وهي خَدْعة [الله] (1) التي خَدَع بها المنافقَ، قال الله ﷿: ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ﴾ [النساء: 142] ، فيَرجِعون إلى المكان الذي قُسِمَ فيه النورُ فلا يَجِدُون شيئًا، فينصَرِفون إليهم وقد ضُرِبَ بينهم ﴿بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ (13) يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ﴾ نصلِّي بصلاتِكم ونَغزُو بمَغازِيكم ﴿قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ﴾ تلا إلى قوله: ﴿وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴾ [الحديد: 13 - 15] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3511 - صحيح
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے دمشق کے ایک دروازے پر ایک جنازے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تم صبح و شام ایک ایسی منزل (دنیا) میں ہو جہاں تم نیکیاں اور برائیاں تقسیم کر رہے ہو، اور قریب ہے کہ تم یہاں سے کوچ کر کے دوسری منزل کی طرف چلے جاؤ، اور وہ یہ ہے —انہوں نے قبر کی طرف اشارہ کیا— جو تنہائی کا گھر، اندھیرے کا گھر، کیڑوں کا گھر اور تنگی کا گھر ہے سوائے اس کے جسے اللہ وسعت دے دے، پھر تم وہاں سے قیامت کے مقامات کی طرف منتقل ہو جاؤ گے، تم ابھی ان میں سے بعض مقامات ہی میں ہو گے کہ لوگوں پر اللہ کے حکم سے ایک معاملہ چھا جائے گا جس سے کچھ چہرے سفید ہو جائیں گے اور کچھ چہرے سیاہ، پھر تم وہاں سے ایک اور منزل کی طرف منتقل ہو گے جہاں لوگوں پر شدید تاریکی چھا جائے گی، پھر نور تقسیم کیا جائے گا، پس مومن کو نور عطا کیا جائے گا جبکہ کافر اور منافق کو چھوڑ دیا جائے گا اور انہیں کچھ نہیں دیا جائے گا، اور یہی وہ مثال ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان فرمائی ہے: ﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾ [سورة النور: 40] یا ان کی مثال گہرے سمندر کی تاریکیوں جیسی ہے جس پر لہر در لہر چھائی ہوئی ہو اور اس کے اوپر بادل ہوں، یہ تہ در تہ تاریکیاں ہیں، جب وہ اپنا ہاتھ نکالے تو اسے دیکھ نہ پائے، اور جسے اللہ ہی نور نہ دے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے، اور کافر و منافق مومن کے نور سے روشنی حاصل نہیں کر سکیں گے جیسے اندھا آنکھ والے کی بصارت سے روشنی نہیں پا سکتا، منافق ایمان والوں سے کہیں گے: ﴿انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا﴾ [سورة الحديد: 13] ہمارا انتظار کرو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں، کہا جائے گا کہ اپنے پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں نور تلاش کرو، اور یہی وہ تدبیر ہے جس کے ذریعے اللہ نے منافق کو دھوکے میں رکھا، اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ﴾ [سورة النساء: 142] وہ اللہ سے چال بازی کرتے ہیں حالانکہ اللہ ہی انہیں (ان کی چالوں کے نتیجے میں) دھوکے میں رکھنے والا ہے، پس وہ اس جگہ کی طرف لوٹیں گے جہاں نور تقسیم کیا گیا تھا مگر وہاں انہیں کچھ نہیں ملے گا، پھر وہ دوبارہ مومنوں کی طرف پلٹیں گے تو ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی: ﴿بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ (13) يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ﴾ جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندرونی حصے میں رحمت ہوگی اور اس کے بیرونی رخ پر عذاب ہوگا، وہ انہیں پکاریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ ہم تمہاری طرح نمازیں پڑھتے تھے اور تمہارے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تھے ﴿قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ﴾ [سورة الحديد: 13-14] وہ کہیں گے کیوں نہیں! لیکن تم نے خود کو فتنے میں ڈالا، انتظار کیا، شک کیا اور آرزوؤں نے تمہیں دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا اور تمہیں اللہ کے بارے میں بڑے دھوکے باز (شیطان) نے دھوکہ دیا۔ انہوں نے ﴿وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴾ [سورة الحديد: 15] تک تلاوت فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3553]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3553] [ترقيم الشركة 3532] [ترقيم العلميه 3511]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں