🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

248. ذِكْرُ سَبَأٍ وَأَوْلَادِهِ
قومِ سبا اور ان کی اولاد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3627
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القرشي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ حدثنا عبد الله بن عيّاش، عن عبد الله بن هُبيرة السَّبَئي، عن عبد الرحمن بن وَعْلةَ قال: سمعت ابن عبّاس يقول: إنَّ رجلًا سأل النبيَّ ﷺ عن سَبَإٍ ما هو: رجلٌ أو امرأةٌ أو أرضٌ؟ فقال:"هو رجلٌ وَلَدَ عشرةً من الولد، ستةً من ولده باليمن، وأربعةً بالشام، فأما اليمانيُّون: فمَذحِجٌ، وكِنْدةُ، والأزْدُ، والأشعريُّون، وأنْمارٌ، وحِميَرٌ خيرُها كلّها، وأما الشاميّةُ: فلَخْمٌ، وجُذامٌ، وعاملةُ، وغسَّانُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث فَرْوة بن مُسَيْك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3585 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سبا کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ مرد ہے، عورت ہے یا کسی جگہ کا نام ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ ایک مرد تھا جس کے دس بیٹے تھے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں تھے۔ یمنی بیٹوں کے نام یہ ہیں: مذحج، کندہ، ازد، اشعریون، انمار اور حمیر۔ سب کے سب اچھے ہیں اور شامی بیٹوں کے نام یہ ہیں: لخم، جزام، عاملہ اور غسان ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا فروہ بن مسیک المرادی سے مروی درج ذیل حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3627]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3628
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ قالا: أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا فَرَجُ بن سعيد بن عَلقَمة بن سعيد بن أبيَضَ بن حِمَالَ المَأْرِبيّ، حدثني عمِّي ثابت بن سعيد بن أبيَض، عن أبيه، أنَّ فَرْوةَ بن مُسَيك المُرادي حدَّثه: أنه سأل رسولَ الله ﷺ عن سَبَأ، فقال: يا رسول الله، سبأٌ رجلٌ أم جبلٌ أم وادٍ؟ فقال رسول الله ﷺ:"بل رجلٌ وَلَدَ عشرةً، فتشاءَمَ أربعةٌ، وتيامنَ ستةٌ، فتشاءمَ لَخْمٌ، وجُذَامٌ، وعاملةُ، وغسَّانُ، وتيامنَ حِميَرٌ، ومَذحِجٌ، والأزدُ، وكِندةُ، والأشعريُّون، والأنمارُ، التي منها بَجِيلةُ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3586 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا فروہ بن مسیک المرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سبا کے متعلق پوچھا اور عرض کیآ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سبا کسی مرد کا نام ہے یا کوئی پہاڑ یا وادی وغیرہ ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلکہ وہ مرد ہے، اس کے دس بیٹے پیدا ہوئے، جن میں سے چار نے ملک شام میں سکونت اختیار کی اور چھ نے یمن میں۔ لخم، جزام، عاملہ اور غسان نے شام میں اور حمیر، مذحج، کندہ، اشعریون نے یمن میں۔ یہ سب شریف النفس لوگ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3628]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں