سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب الصَّلاَةِ بِجَمْعٍ
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1936
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَقَفْتُ هَا هُنَا بِعَرَفَةَ وَ عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَا هُنَا بِجَمْعٍ وَ جَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَ مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عرفات میں اس جگہ ٹھہرا ہوں لیکن عرفات پورا جائے وقوف ہے، میں مزدلفہ میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن مزدلفہ پورا جائے وقوف ہے، میں نے یہاں پر نحر کیا اور منیٰ پورا جائے نحر ہے لہٰذا تم اپنے ٹھکانوں میں نحر کرو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1936]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عرفات میں اس جگہ پر وقوف کیا ہے اور عرفات سارے کا سارا جائے وقوف ہے۔ میں نے مزدلفہ میں اس جگہ پر وقوف کیا ہے اور مزدلفہ سارا ہی جائے وقوف ہے۔ اور میں نے اس جگہ قربانی کی ہے اور منیٰ سب ہی قربان گاہ ہے۔ پس تم اپنے اپنے پڑاؤ پر قربانیاں کرو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الحج 19 (1218)، سنن النسائی/ الحج 51 (2741)، (تحفة الأشراف: 2596)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المناسک 50 (1921) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه مسلم (1218)
رواه مسلم (1218)
حدیث نمبر: 1937
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پورا عرفات جائے وقوف ہے پورا منیٰ جائے نحر ہے اور پورا مزدلفہ جائے وقوف ہے مکہ کے تمام راستے چلنے کی جگہیں ہیں اور ہر جگہ نحر درست ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1937]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرفات سارا ہی مقام وقوف ہے اور منیٰ سارا ہی قربان گاہ ہے اور مزدلفہ پورا ہی وقوف کی جگہ ہے اور مکہ کے سب راستے (یہاں آنے کی) راہ ہیں اور قربان گاہ بھی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/ المناسک 73 (3048)، (تحفة الأشراف: 2397)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/326) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2596)
أخرجه ابن ماجه (3048 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2596)
أخرجه ابن ماجه (3048 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1938
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوْا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگ مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج کو ثبیر ۱؎ پر نہ دیکھ لیتے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی (مزدلفہ سے) چل پڑے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1938]
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”اہلِ جاہلیت (مزدلفہ سے) اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک کہ کوہِ ثبیر پر سورج کو (طلوع ہوتا) نہ دیکھ لیتے۔ سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوعِ آفتاب سے پہلے ہی وہاں سے روانہ ہو لیے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 100 (1684)، ومناقب الأنصار 26 (3838)، سنن الترمذی/الحج 60 (896)، سنن النسائی/الحج 213 (3050)، سنن ابن ماجہ/المناسک 61 (3022)، (تحفة الأشراف: 10616)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/14، 29، 39، 42، 50، 52)، سنن الدارمی/المناسک 55 (1932) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”ثبير“: مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3838)